کولکتہ ۔ ایک چونکا دینے والے واقعے میں 4 اپریل کو کولکتہ کے ایک ہاسٹل سے ایک نوجوان ہندوستانی فٹبالرکی لاش برآمد ہوئی ہے۔18 سالہ جیوتی کماری جو ہندوستان کے لیے ایک ڈیفنڈر فٹبالرکے طور پر کھیلتی تھی اور ان کا تعلق وارانسی اتر پردیش سے تھا اور وہ کئی سالوں سے اڈیشہ میں رہ رہی تھیں لیکن وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئی ۔ اطلاعات کے مطابق متوفی کے اہل خانہ نے اس کی موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کمار کی موت خودکشی سے نہیں ہوئی جیسا کہ مانا جا رہا ہے ۔ اس سے قبل کماری نے انڈر15 ساف چمپئن شپ اور انڈر16 اے ایف سی کوالیفائر میں ہندوستان کے لیے کھیلا تھا۔ جیوتی نے11 سال کی عمر سے فٹ بال کھیلنا شروع کیا اور ٹرائلز کے دوران مدھیہ پردیش سے ایس اے آئی کے لیے منتخب کیا گیا۔ بعد میں وہ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کٹک کے لیے کھیلی۔ جیوتی فیفا انڈر17 ویمنز ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں جگہ بنانے سے محروم رہی لیکن اس نے انڈین ویمنز لیگ پر توجہ مرکوز کی تھی ۔ ابھرتی ہندوستانی فٹبالر کی موت سے اس وقت ایک ہنگامہ ہے ۔ دریں اثناء مرکزی وزیر انوپریا پٹیل نے فٹ بال کھلاڑی جیوتی پٹیل کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس کی 4 اپریل کو کولکتہ کے ایک ہاسٹل میں موت ہو ئی ہے ۔ وہ وارانسی کی رہنے والی تھیں۔ انتقال پر غم کا اظہار کرتے ہوئے انوپریہ نے اس پراسرار حالات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جن میں کھلاڑی مردہ پائی گئی ہیں۔ انہوں نے سوگوار خاندان کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی بھی کروائی ہے ۔