دبئی۔کہتے ہیں کہ مجرم چاہے کتنا بھی شاتر کیوں نہ ہو کچھ نہ کچھ سراغ چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے اس تک رسائی آسان ہوجاتی ہے اور ایسا ہی ایک ایشیائی باورچی کے ساتھ ہوا جس نے اپنے مالک فٹبالر کے گھر قیمتی اشیا کی چوری کی۔باورچی نے امارات کے قومی فٹبال کھلاڑی کے گھر سے دو گھڑیاں اور ایک کڑا چوری کیا جس کے بعد مسروقہ اشیا کی قیمت کا تخمینہ 7 لاکھ درہم لگایا گیا۔ ابتدا میں ملزم باورچی نے الزام قبول کرنے سے انکار کایلیکن بعد ازاں جرم قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے گھر میں موجود چھوٹی سی تجوری چوری کی تھی جس میں قیمتی اشیا محفوظ تھیں۔ تجوری کو کھولنے کی کوشش کی تھی تاہم کامیابی نہ ملنے پر اسے گھر کے باہر کچرے میں ڈال دیا تھا۔اس کے بعد عدالت نے امارات کے معروف فٹبالر کے گھر سے 7 لاکھ درہم کی اشیا چوری کرنے والے باورچی کو6 ماہ قید اور 6 لاکھ 50 ہزار درہم جرمانے اور ملک سے بے دخلی کی سزا سنا ئی ہے۔متاثرہ فٹبالرنے سرقہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اچانک اس کی کئی قیمتی اشیا غائب ہوگئیں۔ دوگھڑیاں جو کافی قیمتی تھیں ان میں ایک گھڑی کی قیمت چار لاکھ بیس ہزار درہم تھی اور یہ گھڑیاں آر ایم ساخت کی تھیں۔ ایک کڑا بھی غائب تھا جو کپڑوں کی الماری میں چھوٹی تجوری میں رکھا ہوا تھا۔ کھلاڑی نے چوری کا شبہ باورچی پر ظاہر کیاکیونکہ بیڈروم میں باروچی کے علاوہ کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ کھلاڑی کے بموجب اس نے اپنیباورچی سے کہاکہ اگر وہ تجوری اور اس میں موجود سامان واپس کردے تواس کے خلاف شکایت درج نہیں کی جائے گی۔اس سہولت کے بعد باورچی نے مہلت مانگی لیکن تجوری واپس کی اور نہ ہی سامان کا کوئی سراغ بتا رہا تھا۔ کوشش کے بعد بھی کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہورہا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ملزم کے فنگر پرنٹ اور تجوری کی جگہ سے حاصل کیے جانے والے ریکارڈ میں یکسانیت تھی۔ان ثبوتوں کے بعد اس نے اقبال جرم کرنے کے علاوہ اشیا کا پتہ بھی بتادیا۔