فکر اقبال کی ترویج و اشاعت پر ماہرین کا مشاورتی اجلاس

   

ڈاکٹر عقیل ہاشمی ، پروفیسر آمینہ تحسین اور پروفیسر مجید بیدار کے تجاویز

حیدرآباد /19 ستمبر ( پریس نوٹ ) اقبال اکیڈیمی حیدرآباد نے فکر اقبال کی ترویج و اشاعت کے عنوان پر ماہرین کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس سے مجوزہ حالات میں نئی نسل کو فکری طور پر توانا اور تعلیمی ترقی کے امکانات سے فائدہ اٹھانے اور عمل کی جانب راغب کرنے کی کوششوں میں حصہ ادا کیا جاسکے ۔ ماہرین نے تجویز پیش کی کہ اقبال اکیڈیمی کو سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ طویل مدتی منصوبہ پر فکر اقبال زبان و ادب اور تعلیمی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے ۔ شہر میں موجود اور ملک بھر کے مفکرین سے رابطہ اور ان سب کو اکیڈیمی سے مربوط کرنا، کالجس و یونیورسٹی میں داخلوں سے ہی ہمارے طلباء و طالبات فکری لحاظ ان اثاثوں کے وارث بن پائیں گے ۔ نئی نسل جو اسکول میں ہے اقبال کے کلام کے ذریعہ ان کو قریب کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ اپنی فکری توانائی کے ذریعہ امکانات کو مزید روشن کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر داخلوں میں طلباء اور طالبات کی کمی ہوتی ہوئی تعداد بھی نہ صرف اقبال اکیڈیمی بلکہ ہر ذمہ دار ادارے و افراد کی توجہ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اخبارات و الکٹرانک میڈیا سے تعاون حاصل کرنے پر غور و خوض کیا گیا۔ جو اس میدان میں بہت پہلے سے کام کر رہے ہیں ۔ اردو زبان کے تحفظ میں ہی ہماری فکری ورثہ کی بقاء مضمر ہے اور سب اداروں کے ساتھ ساتھ اقبال اکیڈیمی اس جدوجہد میں شامل ہے ۔ مشاورتی اجلاس کی اہم تجویز بانگ درا ، ضرب کلیم ، بال جبریل کے ذریعہ اقبال کی شاعری و فکر کی تعلیم دی جائے اور شروعات بانگ درا سے ہو ۔ جناب ضیاء الدین نیر ، صدر اقبال اکیڈیمی اس مشاورتی اجلاس کی صدارت کی اور یقین دلایا کہ اقبال اکیڈیمی مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کرے گی ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب غلام یزدانی ، ایڈوکیٹ نے شرکت کی ۔ اس اجلاس میں نائب صدر اقبال اکیڈیمی پروفیسر خواجہ ناصرالدین ، جناب فرید خان، میر عظمت علی ، خواجہ قطب الدین ، محمد آصف علی ، ڈاکٹر کرمانی نے بھی حصہ لیا ۔ ڈاکٹر روف ریحان نے ڈاکٹر عقیل ہاشمی، پروفیسر آمینہ تحسین پروفیسر مجید بیدار کے علاوہ تمام ممبران اجلاس کا شکریہ ادا کیا ۔