فیس بک اور انسٹاگرام کا تعصب‘، فلسطین سے متعلق مواد حذف

   

نیویارک ۔ اس درد کا تصور کریں کہ آپ کو آپ کے گھر سے نکال دیا جائے اور سوچیں کہ اس کے بعد آپ دنیا کو یہ بتانے کے قابل بھی نہ ہوں۔ یہی کچھ ہو رہا ہے یروشلم کے علاقے شیخ جراہ میں رہنے والوں کے ساتھ، جہاں 1948 سے 28 مکانات ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مشرقی یروشلم کو فلسطین کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق اس سال کے آغاز میں یروشلم کی عدالت نے چار خاندانوں کو قریبی علاقے میں گھروں سے بے دخل کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔ عدالت نے اس فیصلے کے حوالے سے 6 مئی کو رولنگ دینا تھی تاہم اس کو 10 مئی ملتوی کیا گیا۔ سینکڑوں سوشل میڈیا صارفین انسٹاگرام اور فیس بک پر الزام لگا رہے ہیں کہ شیخ جراہ میں ہونے والے تشدد کی رپورٹس پر مبنی مواد کو ہٹایا گیا ہے۔ فلسطینی صحافی ماہا رازق کی ایک ویڈیو جس کو حذف کیا گیا، وہ ایک اسرائیلی نو آباد کار جیکب کے بارے میں تھی، جنہوں نے 2009 میں مونا ال کرد کا گھر کا قبضہ سنبھالا تھا۔