فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی ، کالجس کا سرٹیفکیٹس دینے سے انکار

   

ایم ٹیک اور ایم فارمیسی کونسلنگ میں حصہ لینے والے طلبہ پریشان ، کونسلنگ کی آخری تاریخ میں توسیع کا امکان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : پی جی انجینئرنگ انٹرنس ٹسٹ ( پی جی ای سیٹ ) میں رینکس حاصل کرنے والے طلبہ کونسلنگ میں حصہ لینے کے معاملے میں الجھن کا شکار ہیں ۔ کونسلنگ میں شرکت کرنے کے لیے بی ٹیک ، بی فارمیسی کی ٹی سی ، میمورنڈم آف مارکس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے فی ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے کالجس کے انتظامیہ سرٹیفیکٹس جاری کرنے سے صاف انکار کررہے ہیں ۔ جس پر طلبہ پی جی سیٹ کے مرکز کو فون کر کے مسائل کی یکسوئی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ چند طلبہ قرض حاصل کرتے ہوئے کالجس کی بقایا جات فیس ادا کرتے ہوئے سرٹیفیکٹس حاصل کررہے ہیں ۔ غریب طلبہ کافی پریشان ہیں ۔ پی جی ای سیٹ کونسلنگ کا 4 اکٹوبر کو آغاز ہوا ہے ۔ طلبہ کو 18 اکٹوبر تک اپنے اسنادات کو پورٹل میں اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ پی جی ای سیٹ میں 16,582 طلبہ کوالیفائی ہوئے ہیں ۔ ریاست میں 12 ہزار تک ایم ٹیک اور ایم فارمیسی کی نشستیں ہیں ۔ جس میں 80 فیصد یعنی 9600 نشستیں کنوینر کوٹہ میں دستیاب ہیں ۔ کونسلنگ کے آغاز کے 8 دن مکمل ہونے کے باوجود پیر تک 2500 طلبہ نے ہی اپنے اسنادات کو پورٹل میں اپ لوڈ کیا ہے ۔ جن میں تقریبا 2000 طلبہ گذشتہ سال 2020 میں کوالیفائی ہوئے تھے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے ۔ رواں سال کامیاب ہونے والے طلبہ سرٹیفیکٹس کی اجرائی کا انتظار کررہے ہیں ۔ اس مسئلہ پر انجینئرنگ کالجس کے انتظامیہ تنظیم کے نمائندے سنیل سے ربط پیدا کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ طلبہ کو پریشان کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ کم از کم فائنل ایر کے طلبہ کی فیس حکومت جاری کردے ۔ پی جی ای سیٹ انٹرنس کے کنوینر رمیش بابو نے بتایا کہ اس مسئلہ پر انہیں طلبہ سے بڑے پیمانے پر فون کالس وصول ہورہے ہیں ۔ کالجس انتظامیہ کے اس رویے پر تلنگانہ ہائیر ایجوکیشن کونسل سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کونسلنگ کی تاریخ میں توسیع کرائی جائے گی ۔۔ ن