شمالی ہند کے حجاموں کی حیدرآباد میں کثرت ، غیر شرعی ہیر کٹنگ عام، بیوٹی ٹپس پر روزانہ ہزاروں روپئے کا خرچ
حیدرآباد۔/24 ستمبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے مسلم حجاموں اور دھوبیوں کو ماہانہ 250 یونٹ مفت برقی کی سربراہی کے فیصلہ سے حیدرآباد میں موجود بیشتر مسلم حجاموں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ شمالی ہند سے حیدرآباد پہنچ کر فیشن ایبل ہیر کٹنگ کی دکانات کھول کر روزانہ ہزاروں روپئے کا کاروبار کیا جارہا ہے اور بلدیہ سے لائسنس کے حصول کے بغیر ہی خواتین کی طرح مَردوں کے مینس بیوٹی پارلرس قائم کئے گئے ہیں۔ حیدرآباد میں مسلم حجاموں سے متعلق سروے سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ جب سے شمالی ہند بالخصوص دہلی، بہار اور اتر پردیش کے حجاموں نے حیدرآباد کا رخ کیا اس وقت سے نوجوان نسل کے ہیر کٹنگ اخراجات ماہانہ ہزاروں روپئے ہوچکے ہیں اور بیروزگار نوجوان فیشن ایبل ہیرکٹنگ اور دیگر بیوٹی ٹپس کیلئے والدین پر ہزاروں روپئے کا بوجھ عائد کررہے ہیں۔ اسلام میں اگرچہ فیشنل ایبل ہیر کٹنگ کو حرام قرار دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ ایس ایس سی کے طلباء سے لے کر 30 سال کے نوجوان اس لعنت میں بری طرح گرفتار ہیں اور ہر دوسرا نوجوان غیر شرعی ہیر کٹنگ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ دینی اداروں کی جانب سے فتوے جاری کئے گئے اور علماء و مشائخین نے عام جلسوں میں اصلاح معاشرہ کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ سروے میں جو دلچسپ انکشاف ہوا ہے اس کے مطابق مینس بیوٹی پارلرس میں کم سے کم 500 روپئے ہیر کٹنگ اور شیونگ کا بل ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ بیوٹی ٹپس کی انجام دہی پر دیڑھ تا دو ہزار روپئے بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ اپنے پسندیدہ ہیر کٹنگ سیلون سے رجوع ہوتا ہے اور ماہانہ ہیر کٹنگ پر اخراجات 5 ہزار روپئے سے زائد ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر دعوتوں کے علاوہ برتھ ڈے اور دیگر پارٹیوں میں جانے سے قبل بھی نوجوان پارلرس سے رجوع ہوتے ہیں اوراس طرح ہزاروں روپئے صرف اپنے کو خوبصورت پیش کرنے کیلئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد میں خواتین کے بیوٹی پارلرس کے مقابلہ مینس پارلرس کی تعداد بھی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ خود کوخوبصورت بنانے کا یہ شوق والدین پر اضافی بوجھ بن چکا ہے اور ایسے بیروزگار نوجوان جو اخراجات کی تکمیل نہیں کرسکتے وہ اپنا شوق پورا کرنے کیلئے سرقہ اور لوٹ مار جیسے جرائم میں ملوث ہورہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں موبائیل فون اور خواتین کے زیورات چھیننے کے علاوہ بسوں اور شادیوں اور جلوس جنازہ میں سرقہ کی وارداتوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور ان میں زیادہ تر 15 سے 25 سال عمر کے نوجوان ملوث پائے گئے ہیں۔ سروے کے مطابق حیدرآباد میں 1000 سے زائد مینس پارلرس ہیں جن کے مالکین جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں میں غیر شرعی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کیلئے مذہبی جماعتوں، تنظیموں، ائمہ مساجد و خطیب حضرات کے علاوہ رضاکارانہ تنظیموں کو متحرک ہونا چاہیئے۔