مسودہ میں کئی اہم نکات پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت، ایران کی معاہدہ کی جانب واپسی بھی ضروری
ویانا : آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منگل کے روز ایرانی نیوکلیئر معاہدے سے متعلق مذاکرات کا آٹھواں دور پھر سے شروع ہو ا ہے۔ مذاکرات میں تقریبا ایک ہفتے کا وقفہ دیا گیا تھا جس کے دوران مذاکرات کار اپنے ممالک واپس لوٹ گئے۔ وہاں انہوں نے فیصلہ کن سیاسی فیصلوں پر اہم بات چیت کی۔یورپی یونین اور روسی ایلچی میاخائل اولیانوف کے مطابق آٹھواں دور آج مکمل ہو جائے گا۔اولیانوف کا کہنا تھا کہ مذاکرات اپنے آخری مرحلے تک پہنچ گئے ہیں اور اب تمام شرکاء کی جانب سے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے تا کہ مطلوبہ ہدف تک پہنچا جا سکے۔ یہ ہدف نیوکلیئر معاہدے کی مکمل بحالی اور پابندیوں کا اٹھایا جانا ہے۔روسی اخبار ’’کومرسینٹ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں اولیانوف کا کہنا تھا کہ حتمی دستاویز کا مسودہ وضع کر لیا گیا ہے البتہ کئی معلق نکات پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ادھر امریکہ نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات میں موافقت تک پہنچا جا سکے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اگر آئندہ ہفتوں کے دوران معاہدہ نہ طے پایا تو ایران کی مسلسل نیوکلیئر پیشرفت نیوکلیئر معاہدے کی طرف ہماری واپسی کو نا ممکن بنا دے گی۔امریکی انتظامیہ ایرانی نیوکلیئر معاہدے کی بحالی کے حوالے سے وقت کی کمی اور اس میں تیزی دکھانے پر زور دیتی رہی ہے۔ یہ معاہدہ 2015ء میں طے پایا تھا اور سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مئی 2018ء میں یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علاحدہ ہو گئی تھی۔ایران نے گیند امریکہ کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ویانا میں امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز اس بات کا تعین کریں گی کہ ہم کسی عماہدے تک کب پہنچ سکتے ہیں”۔ ترجمان کے مطابق ان کے ملک نے ان پابندیوں کے اٹھائے جانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے جو ایران کی معیشت کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔دوسری جانب جرمن چانسلر اولاف شولز کے مطابق ویانا بات چیت فیصلہ کن لمحے تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے ایران کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب ٹال مٹول کا نہیں بلکہ فیصلوں کا وقت آ گیا ہے۔یاد رہے کہ نیوکلیئر معاہدے سے متعلق فریق ایک برس سے ویانا میں مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکہ بالواسطہ طور پر شریک ہے۔ اس بات چیت کا مقصد کسی مفاہمت تک پہنچنا ہے۔ تہران اس موقف پر سختی سے قائم ہے کہ اس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر اٹھائی جائیں۔ ساتھ ہی مطلوبہ یقین دہائی بھی کرائی جائے۔ادھر واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایرانی حکام دوبارہ سے اپنی تمام نیوکلیئر پاسداریوں کی جانب واپس آ جائیں۔ واشنگٹن نے اس بات کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے کہ آئندہ ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے سے امریکی انتظامیہ علاحدگی اختیار نہیں کرے گی۔