فیض الٰہی مسجد پر بلدیہ کے حکم سے کشیدگی، معاملہ عدالت سے رجوع

   

Ferty9 Clinic

پرانی دہلی کی مسجد کے مبینہ غیرقانونی حصہ کو منہدم کرنے کی ہدایت ، انتظامیہ اور مقامی لوگوں میں بے چینی
نئی دہلی۔ 5 جنوری ۔ (ایجنسیز ) پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع فیض الٰہی مسجد کو لے کر تنازعہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن دہلی کی جانب سے جاری حکم کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے، جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔22 دسمبر 2025 کو جاری کردہ حکم میں میونسپل کارپوریشن آف دہلی نے مسجد کمپلیکس سے منسلک اضافی 0.195 ایکڑ اراضی کو تجاوزات قرار دیا ہے۔ اس حکم کے مطابق اس مبینہ غیر قانونی حصے میں قائم ایک شادی ہال اور ایک تشخیصی مرکز کو منہدم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کے بعد مسجد انتظامیہ اور مقامی باشندوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔تنازعہ کے بعد مسجد کے باہر ایک نوٹس چسپاں کیا گیا، جس میں اعلان کیا گیا کہ 3 جنوری بروز ہفتہ سے مسجد احاطے میں شادیوں کی تقاریب منعقد نہیں کی جائیں گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ انتظامی کارروائی کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس کے ڈی سی پی اور اے سی پی سمیت سینئر افسران نے مسجد کا معائنہ کیا۔ عدالتی ہدایت کے بعد مسجد کے بیرونی حصے کی پیمائش بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ انتظامی ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں کچھ حصے کو سیل کیے جانے یا انہدامی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ رات دہلی کی جامع مسجد کے امام احمدبخاری نے فیض الٰہی مسجد کا دورہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس معاملے پر پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور اپیل کی کہ چونکہ مسجد انتظامیہ کمیٹی پہلے ہی عدالت سے رجوع کر چکی ہے، اس لیے کسی بھی انہدامی کارروائی کے لیے پولیس تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔مسجد مینجمنٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ زیرِ بحث اراضی دہلی وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔ کمیٹی کے مطابق اس اراضی سے متعلق تمام قانونی دستاویزات وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں، جو عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں مسجد کمیٹی کے عہدیدار پہلے ہی عدالت میں درخواست دائر کر چکے ہیں۔فیض الٰہی مسجد میں جامع مسجد کے امام اور علاقے کے ایم ایل اے کی آج دوپہر متوقع آمد اور نماز کی ادائیگی منسوخ کر دی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں مقامی باشندوں سمیت تمام فریقین کی نظریں عدالت کے آئندہ فیصلے اور انتظامیہ کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔