فیور سروے کے دوران 2دن میں ایک لاکھ افراد میں کورونا علامات

,

   

تقریبا ہر گھر متاثر۔ عوام خوفزدہ نہ ہوں۔ سرکاری دواخانوں میں علاج کروائیں۔ وزیر صحت ٹی ہریش راؤ کی اپیل

حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاری فیور سروے کے دوران 2دن میں1لاکھ افراد میں کوروناکی علامات پائی گئی ہیں اور دویوم کے فیور سروے میں مصروف عہدیداروں اور عملہ کی جانب سے ان لوگوں میں ادویات کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے جن میںعلامات پائی جا رہی ہیں۔ وزیر صحت مسٹر ٹی ہریش راؤ نے سنگاریڈی میں آج فیور سروے میں حصہ لیتے ہوئے صورتحال سے آگہی حاصل کی اور کہا کہ ریاست میں گھر گھر فیور سروے کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں بیشتر گھروں میں کوئی نہ کوئی کورونا کی علامات کا شکار ہے لیکن حکومت کی حکمت عملی کے ذریعہ کورونا کو پھیلنے سے روکنے اور جن لوگو ںمیں علامات پائی جا رہی ہیں ان کے گھر کی دہلیز پر ان کے علاج کے اقدامات انتہائی کارگر ثابت ہورہے ہیں۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ سروے کے دوران گذشتہ دو یوم میں 29 لاکھ 20 ہزار افراد کے معائنہ کئے گئے اور انہیں سروے میں شامل کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ سروے میں شامل عہدیداروں ‘ آشا ورکرس کے علاوہ دیگر عملہ کی جانب سے شہریوں کی جانچ کے علاوہ انہیں ادویات کی تقسیم کے ساتھ جن لوگوں میں علامات پائی جا رہی ہیں ان کو گھریلو قرنطینہ اختیار کرنے کہا جا رہاہے تاکہ ان کی علامات دوسروں میں منتقل نہ ہوں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ سروے کے دوران ایسے تمام شہریوں کو ادویات اور قرنطینہ کٹس فراہم کی جائیں گی جن میں علامات ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت تیسری لہر سے نمٹنے پوری تیار ہے اور محکمہ صحت سے سرکاری دواخانو ں میں خدمات کو بہتر بنانے کے ساتھ مریضوں کو معیاری سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست کے تمام اضلاع میں جاری فیور سروے میں مصروف عہدیداروں اور عملہ کو محفوظ رکھنے انہیں احتیاطی تدابیر سے واقف کروانے کے علاوہ ان کے بوسٹر ٹیکہ کا عمل بھی مکمل کیا جاچکا ہے ۔ ہریش راؤ نے کورونا کا شکار ہونے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ خوف کا شکار ہونے کی بجائے مطمئن رہیں ۔ معمولی ادویات سے علاج کو بہتر انداز میں کروانے کے علاوہ قرنطینہ اختیار کرکے دیگر شہریوں کو کورونا کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے شہریوں سے ایک مرتبہ پھر سے اپیل کی کہ وہ کورونا کا شکار ہونے پر خانگی دواخانوں کا رخ کرنے کے بجائے سرکاری دواخانوں میں علاج کو ترجیح دیں کیونکہ حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانوں میں کارپوریٹ سہولتوں کی فراہمی کی کوشش کی جار ہی ہے اور معیاری علاج کیا جا رہا ہے۔ م