فیوچرسٹی ، چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کا ڈریم پراجکٹ، مصنوعی ذہانت ، طبی سیاحت ، اسپورٹس ، سافٹ ویر اور فارمیسی کا ہب

   

چوتھے شہر میں عوام کے لیے نئے زمانہ کے آرام دہ گھر ، پی سرینواس ریڈی کی زیر قیادت وفد کا جنوبی کوریا کے اسمارٹ شہروں کا معائنہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر : ( اسماعیل احمد سیؤل سے ) : فیوچرسٹی چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کا ڈریم پراجکٹ ہے ۔ حیدرآباد میں دوسرے دو شہروں سکندرآباد اور سائبر آباد کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ اب ریونت ریڈی تلنگانہ کے دارالحکومت شہر حیدرآباد میں چوتھا شہر ’ فیوچرسٹی ‘ بنانے کی آرزو رکھتے ہیں ۔ حیدرآباد سے 50 کیلو میٹر دور ضلع رنگاریڈی کے علاقہ موچرلا میں بنائے جانے والے فیوچرسٹی کو الٹرا ماڈرن ریجن کی حیثیت حامل رہے گی اور اسے آئندہ نسل کی مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا جارہا ہے ۔ فیوچرسٹی میں نئے زمانہ کے خوشنما گھر رہیں گے ، جہاں بہتر سے بہتر سہولتیں رہیں گی ۔ ان گھروں میں لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں گے ۔ زندگی بہت خوبصورت ہے ان کے لیے جو سلیقہ کے ساتھ جینے کا ہنر جانتے ہیں ، زندگی اور بھی خوبصورت ہوجاتی ہے اگر رہنے کے لیے خوابوں کا گھر مل جاتا ہے ۔ فیوچرسٹی کو ایک بہت ہی اچھے رہائشی شہر کے ساتھ ہی ساتھ مصنوعی ذہانت ، طبی سیاحت ، اسپورٹس ، سافٹ ویر اور فارمیسی کے ہب کی حیثیت بھی حاصل رہے گی ۔ ریونت ریڈی نے فیوچرسٹی کا جو خواب دیکھا ہے وہ تلنگانہ اور بالخصوص دارالحکومت شہر حیدرآباد کے شہریوں کے خوابوں کا آئینہ دار ہے ۔ ریونت ریڈی کے ڈریم پراجکٹ ’ فیوچرسٹی ‘ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سرگرم مساعی جاری ہے اور اس مساعی کے ایک حصہ کے طور پر وزیر اطلاعات پی سرینواس ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ کے عوامی نمائندوں ، عہدیداروں اور صحیفہ نگاروں کا وفد جنوبی کوریا گیا ہوا ہے جس نے جنوبی کوریا کے علاقہ انچیان میں قائم کئے جانے والے تین انٹرنیشنل اسمارٹ شہروں کا دورہ کیا ہے ۔ انچیان کے ان تین انٹرنیشنل اسمارٹ شہروں میں چیانگنا انٹرنیشنل سٹی ، سانگڈوسٹی اور یانگ جانگ سٹی شامل ہیں ۔ چیانگنا انٹرنیشنل سٹی کی آبادی ایک اندازہ کے مطابق 98060 ہے جس میں گھروں میں رہنے والے 36184 لوگ بھی شامل ہیں ۔ یہ پراجکٹ 2003 میں شروع کیا گیا تھا اور 2024 پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ یہ شہر 17.8 کیلو میٹر کے رقبہ پر مشتمل ہے ، اس پراجکٹ پر 6.58 ٹریلین KRW ( ہندوستانی کرنسی کے مطابق 0.4 لاکھ کروڑ روپئے ) کی لاگت آئی ہے ۔ سانگڈو سٹی میں توقع ہے کہ 265611 کی آبادی رہے گی جس میں گھروں میں رہنے والے 104112 افراد بھی شامل رہیں گے ۔ اس پراجکٹ پر تخمینی لاگت 21.5 ٹریلین KRW ( ہندوستانی کرنسی کے مطابق 1.2 لاکھ کروڑ روپئے ) ہے ، اس پراجکٹ کا آغاز 2003 میں کیا گیا تھا اور 2013 میں تکمیل کو پہنچا تھا ۔ یانگ جانگ سٹی میں امید ہے کہ 179982 کی آبادی رہے گی ، جس میں گھروں میں رہنے والے 69815 لوگ بھی شامل رہیں گے ۔ اس پراجکٹ کی تخمینی لاگت 13.31 ٹریلین KRW ( ہندوستانی کرنسی کے مطابق 0.8 لاکھ کروڑ روپئے ) ہے ۔ یہ پراجکٹ 2003 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی تکمیل 2027 میں ہوگی ۔ اس پراجکٹ کے تحت 51.18 کیلو میٹر کے رقبہ کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ انچیان کے تینوں انٹرنیشنل اسمارٹ شہروں کا دورہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ تلنگانہ کے دارالحکومت شہر حیدرآباد میں فیوچرسٹی کو جنوبی کوریا کے ان انٹرنیشنل اسمارٹ شہروں کے طرز پر بنایا جائے ۔ سرینواس ریڈی کی زیر قیادت تلنگانہ کے وفد میں مشیر برائے حکومت تلنگانہ وی نریندر ریڈی ، بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ سی کرن کمار ریڈی ، ارکان اسمبلی ، مال ریڈی گنگا ریڈی ، کالے یادیا و پرکاش گوڑ ، پرنسپال سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق دانا کشور اور دوسرے عہدیدار بھی شامل تھے ۔ تلنگانہ کے وفد کے انچیان کے ان تینوں انٹرنیشنل اسمارٹ شہروں کے دورہ کے دوران انچیان کے سٹی ایڈمنسٹریشن ڈائرکٹر یانگ جائے سن کے علاوہ کیان ، چاگل سانگ اور دوسرے عہدیدار ساتھ تھے ۔ سرینواس ریڈی نے وفد کے ساتھ سیؤل کی اسپورٹس یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا اور یونیورسٹی کے پروفیسرس سے بات چیت کی ۔ ریونت ریڈی حکومت تلنگانہ میں اسپورٹس یونیورسٹی بھی قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت کی اسپورٹس یونیورسٹی کے طرز پر قائم کیا جائے گا ۔۔