فیوچر سٹی کیلئے اراضی کے الاٹمنٹ میں دشواریاں

   

بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کا ٹوئیٹ
حیدرآباد : 17 اگست ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے فیوچر سٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور فیوچر سٹی کے قیام کے امکانات موہوم ہے ۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی شہر کے اطراف فیوچر سٹی کے قیام کا خواب دیکھ رہے ہیں اور یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ صرف اپنے خاندان کے افراد کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے حیدرآباد اور فارما سٹی کی اراضی کو رئیل اسٹیٹ کے حوالے کرنے کا منصوبہ ہے ۔ کے ٹی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے فیوچر سٹی کیلئے اراضی الاٹمنٹ میں دشواریوں سے متعلق خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی نے فیوچر سٹی کا جو ویژن تیار کیا ہے اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ فارما سٹی کے نام پر کسانوں سے جبراً اراضی حاصل کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کی جانب سے شروع کردہ فارما سٹی پراجکٹ کو منسوخ کرتے ہوئے ریونت ریڈی حکومت نے فیوچر سٹی کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ بی آر ایس دور حکومت میں 56 مواضعات کے تحت فارما سٹی کیلئے 20ہزار ایکڑ اراضی مختص کی گئی تھی ۔ مقامی کسانوں نے رضاکارانہ طور پر حکومت کو اراضی حوالے کی ۔ کانگریس نے برسراقتدار آنے پر اراضی کسانوں کو واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن فیوچر سٹی کے نام پر اراضیات حاصل کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے افراد خاندان رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کیساتھ کاروبار کررہے ہیں ۔ بی آر ایس حکومت نے فارما سٹی کے بنیادی انفراسٹرکچر کیلئے کروڑہا روپئے مختص کئے تھے لیکن کانگریس نے ان منظوریوں کو روک دیا ہے ۔ 1