’ فیڈ دی نیڈ ‘ فریجس عدم توجہ کا شکار ، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے بیشتر ناکارہ

   

حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بھوکے غریبوں کو کھانا فراہم کرنے کے مقصد سے شہر کی سڑکوں پر لگائے گئے پینتیس ریفریجریٹرس کو عمداً سرد مہری کا شکار بنادیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں بے اعتنائی کی جارہی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) اور این جی او ایپل ہومس کی جانب سے شروع کئے گئے اقدام ’ فیڈ دی نیڈ ‘ کے سلسلہ میں دو سال قبل نصب کئے گئے یہ ریفریجریٹرس عدم توجہ کا شکار ہوگئے ہیں ، ناقص مینٹیننس اور ناقص برقی سربراہی کی وجہ غذا کا تحفظ اور ضرورت مندوں کو کھانا فراہم کرنے کا یہ انوکھا منصوبہ سرد مہری کا شکار ہوگیا ہے ۔ فریجس کی سپلائی اس این جی او کی جانب سے کی گئی جب کہ جی ایچ ایم سی نے اس کے لیے جگہ فراہم کی اور برقی سربراہی کے لیے ذمہ دار تھی ۔ اس این جی او نے 35 فریجس ( 530 Lt ) 1.5 لاکھ روپئے فی فریج کی لاگت سے لگائے تھے ۔ ایک سال تک یہ سلسلہ اچھی طرح چلا لیکن جب کوویڈ وبا شروع ہوئی تو اس این جی او کو ان فریجس کے مینٹیننس کے لیے لوگ ملنا مشکل ہوگیا ۔ یہ ریفریجریٹرس پر ان کے کیپرس نہیں رہے ۔ جس کی وجہ جلد ہی گھروں ، ہوٹلس اور فنکشن ہال سے دی جانے والی غذا اور کھانا ان زنگ آلود ریفریجریٹرس میں سڑنا شروع ہوگیا جنہیں کسی توجہ کے بغیر چھوڑ دیا گیا اور اکثر ان میں برقی سربراہی نہیں رہتی تھی ۔ بشیر باغ ، ٹولی چوکی ، مہدی پٹنم ، بنجارہ ہلز اور پنجہ گٹہ میں دیکھا گیا کہ زیادہ تر ریفریجریٹرس برقی سربراہی اور مینٹیننس نہ ہونے کی وجہ ناکارہ ہوگئے ہیں ۔ مہدی پٹنم میں سروجنی دیوی آئی ہاسپٹل کے بازو نصب اس طرح کے ایک ریفریجریٹر کے قریب میں ایک فوڈ کورٹ کے ملازم ایم ناگا راجو نے کہا کہ جب اسے پہلے لگایا گیا تھا تو ہمارے کسٹمرس ہم سے یہ کہتے تھے کہ ریفریجریٹر میں زائد غذا رکھی جائے تاکہ یہ ضائع نہ ہونے پائے ۔ لیکن اب کوئی اس کا مینٹیننس کرنے والا نہیں ہے اس لیے یہ فریج بہت خراب حالت میں ہے اور کام نہیں کررہا ہے ۔ ٹولی چوکی میں ریفریجریٹر کے لیے بنایا گیا شیڈ بھی نکال دیا گیا ہے اور گلاس ڈور ٹوٹا ہوا ہے ۔ ایک کارکن ہریش ڈاگا نے کہا کہ یہ ریفریجریٹرس ان کا مینٹیننس نہ ہونے کی وجہ زنگ آلود ہورہے ہیں ۔ اس سے آنے والی بدبو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ایک عرصہ دراز سے اسی طرح چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اسے صاف کرنے یا مرمت کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ کھانا لے کر آنے والے لوگ اس کی حالت دیکھ کر واپس لے جاتے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے فوری اس کی تبدیلی کی جانی چاہئے ۔ انہیں اس کا مینٹیننس کرنا چاہئے اور اس کے لیے اسٹاف رکھنا چاہئے ۔ سوشیل انٹر پرینئر اور فاونڈر ایپل ہومس نیلیما آریہ نے کہا کہ ہم نے ایک مشترکہ کوشش کے طور پر یہ قدم اٹھایا تھا لیکن گذشتہ سال کوویڈ وبا کی وجہ ہمارے لیے میان پاور کا مسئلہ پیدا ہوا اور ان کا مینٹیننس کرنا مشکل ہوگیا ۔ ہم کو جی ایچ ایم سی سے بھی کوئی مدد نہیں ملی ۔ بار بار برقی خلل کی وجہ سے بھی فریجس کو نقصان پہنچا ہے ۔ مئیر جی وجئے لکشمی نے ایک حالیہ جائزہ اجلاس میں عہدیداروں سے کہا تھا کہ ان ریفریجریٹرس کو ہوٹلس کے قریب منتقل کیا جائے تاکہ ان میں رکھی جانے والی غذا کھانے کے لیے اچھی حالت میں ہوگی ۔۔