پولیس کے ذریعہ احتجاج کوکچلا نہیں جاسکتا، بھٹی وکرامارکا کا بیان
حیدرآباد۔/9نومبر، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکار نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سیاسی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ نظربندی اور گھروں پر محروس رکھنے کے اس طرح کے واقعات سابق میں پیش نہیں آئے۔ انہوں نے ریاست بھر میں آر ٹی سی جے اے سی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی گرفتاری اور مکانات پر محروس رکھنے کے واقعات کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری امن و ضبط کی برقراری ہے لیکن وہ اپوزیشن قائدین کے حقوق متاثر کرتے ہوئے انہیں مکانات پر محروس رکھ رہی ہے۔ پولیس کے رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے ان کی قیامگاہ پہنچنے والے عہدیداروں سے مختلف سوالات کئے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آیا جمہوریت میں پُرامن احتجاج کی گنجائش نہیں ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ پولیس عہدیداروں کی ڈیوٹی امن و ضبط کی برقراری کے بجائے اپوزیشن قائدین کے مکانات پر متعین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس دور حکومت میں اسی طرح کا رویہ اختیار کیا جاتا تو تلنگانہ تحریک کا وجود نہ ہوتا۔ تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں پاتی اور نہ کے سی آر چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر عوام کو اپنے ماتحتین کی طرح تصور کررہے ہیں اور ان پر مختلف پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ چیف منسٹر پرگتی بھون اور فارم ہاوز رہ کر پولیس کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن قائدین کو مکانات سے باہر نکلنے سے روک رہے ہیں۔ چیف منسٹر کا یہ اقدام غیر جمہوری ہے۔ چیف منسٹر کو جاننا چاہیئے کہ طاقت کے ذریعہ کسی بھی عوامی احتجاج کو روکا نہیں جاسکتا۔ اگر حکومت کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئے گی تو عوام بغاوت پر اُتر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 80 ہزار کتابوں کا مطالعہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے کے سی آر نے دستور کا مطالعہ کیا ہوتا تو بہتر تھا۔ وہ اپنی حکمرانی میں جمہوریت اور دستور کو بالائے طاق رکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جو جدوجہد کی سرزمین ہے اس کی عوام کے ساتھ چیف منسٹر کھلواڑ کررہے ہیں۔ انہوں نے 48000 آر ٹی سی ملازمین کے تحفظ کیلئے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عدالت کے احکامات کے باوجود مذاکرات کیلئے طلب نہ کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے ہٹ دھرمی کے رویہ کے نتیجہ میں آئی اے ایس عہدیداروں کو عدالت میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت نے عہدیداروں کی ایک سے زائد مرتبہ سرزنش کی ہے۔ انہوں نے ریاست بھر میں کانگریس اور جے اے سی قائدین کی گرفتاریوں کی مذمت کی اور انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر تمام آر ٹی سی روٹس کو خانگیانے کا منصوبہ رکھتے ہیں لیکن عدالت نے ان کے منصوبہ پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے پانی پھیر دیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال مزید شدت اختیار کرے گی۔