قائد اپوزیشن ادھیر رنجن چودھری لوک سبھا سے معطل

,

   

Ferty9 Clinic

کانگریس لیڈر پر وزیراعظم کیخلاف نا زیبا ریمارکس کا الزام

نئی دہلی : لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد پر بحث کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر ایوان میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو ایوان سے معطل کر دیا گیا ہے اور ان کا معاملہ ایوان کی استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کی طرف سے ایوان میں پیش کی گئی تحریک کو قبول کئے جانے کے بعد لوک سبھا اسپیکر برلا نے ادھیر رنجن چودھری کے ذریعہ ایوان میں کئے جارہے رویہ کی تحقیقات کا معاملہ ایوان کی استحقاق کمیٹی کو بھیجتے ہوئے کمیٹی کی رپورٹ آنے تک انہیں ایوان سے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ادھیر رنجن چودھری کے خلاف ایوان اور اسپیکر کی توہین کی تحریک پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے پیش کی اور استحقاق کی خلاف ورزی اور ان کی معطلی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسپیکر نے استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک کو قبول کر لیا۔ جب تک استحقاق کمیٹی کی رپورٹ نہیں آتی ہے، تب تک کیلئے ادھیر رنجن معطل رہیں گے۔ یہ تجویز ادھیر رنجن کے رویہ کے خلاف پیش کی گئی تھی۔بتادیں کہ جب معطلی کی یہ تجویز ایوان میں منظور ہوئی تو اس وقت ادھیر رنجن چودھری سمیت کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ وہاں موجود نہیں تھے کیونکہ وہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔ادھر کانگریس نے ادھیر رنجن چودھری کی معطلی کو غیر جمہوری فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر کے سریش نے ادھیر رنجن کی معطلی کو جمہوریت کا قتل قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم فیصلے کی مخالفت کریں گے، جب تک اسپیکر معطلی کا فیصلہ واپس نہیں لیتے تب تک ہم ایوان نہیں چلنے دیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے۔