مرکزی وزارت اقلیتی امور کی طرف سے حکومت آندھراپردیش کو مکتوب
نئی دہلی: مودی سرکار میں اب احمدیوں یعنی قادیانیوں کو کافر کہنا بہت سے مسلمانوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ حال ہی میں وزارت اقلیتی امور کی جانب سے اس سلسلے میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کی وزارت نے تنقید کی ہے اور آندھرا پردیش وقف بورڈ کی اس تجویز کو واپس لینے کا حکم دیا ہے، جس میں بورڈ نے احمدیوں یعنی قادیانیوں کو کافر قرار دے کر انہیں غیر مسلم قرار دیا تھا۔آندھرا پردیش کی حکومت کو لکھے گئے خط میں اقلیتی امور کی وزارت نے وقف بورڈ کی تجویز کو نفرت انگیز مہم قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک بھر میں احمدیوں(قادیانیوں) کے خلاف ماحول بن سکتا ہے، جس سے انہیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری کے ایس جواہر ریڈی کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وزارت کو قادیانیوں کی طرف سے 20.7.2023 کو ایک میمورنڈم ملا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ وقف بورڈ قادیانیوں کی مخالفت کر رہے ہیں، اور کمیونٹی کو دائرہ اسلام سے باہر قرار دینے کیلئے غیر قانونی قراردادیں پاس کر رہے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے، کہ یہ قادیانیوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مہم ہے۔وقف بورڈ کے پاس قادیانیوں سمیت کسی بھی کمیونٹی کی مذہبی شناخت کا فیصلہ کرنے کا نہ تو دائرہ اختیار ہے اور نہ ہی اس کے اختیار میں ہے۔وزارت نے کہا ہے کہ وقف ایکٹ 1995 بنیادی طور پر ہندوستان میں وقف املاک کے انتظام کیلئے ایک قانون ہے اور ریاستی وقف بورڈ کو اس طرح کے اعلانات کرنے کا کوئی اختیار فراہم نہیں کرتا ہے۔ 2012 میں، آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ نے ایک قرارداد پاس کی جس میں قادیانیوں غیر مسلم قرار دیا گیا۔اس قرارداد کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس نے قرارداد کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قادیانی یعنی احمدی خود کو مبینہ طور پر مسلمانوں کا ایک ذیلی فرقہ قرار دیتے ہیں، تاہم یہ محض کذب اور دجل پر مبنی ہے۔ یہ مذہب19ویں صدی میں پنجاب کے قادیان سے نمودار ہوا، جس کاداعی مرزا غلام احمدقادیانی تھا۔یہ اپنی خود ساختہ نبوت کا دعویدار تھا،مسلم علماء اور اسکالروں نے اس سے مناظرہ بھی کئے ،اور بری طرح شکست فاش بھی دی ، جس میں علامہ انور شاہ کشمیری اور پیر مہر علی گولڑوی کا اسم گرامی آبِ زر سے لکھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے پیروکار مرزا غلام ا حمد کو مسیح موعود اور مجدد بھی گردانے میں دریغ نہیں کرتے۔خیال رہے کہ پوری دْنیا کے مسلمان باجماعِ امت قادیانیوںکو دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیتے ہیں۔