قانون حق اطلاعات کے آن لائن پورٹل پر تنظیموں کی تشویش

   

سرکاری محکمہ قانون کے تحت اطلاعات فراہم کرنے میں ناکام، پی ایف آر آئی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں قانون حق اطلاعات کے آن لائین پورٹل پر مختلف تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اطلاعات کے حق کو عوام تک بہم پہونچانے اور دستیاب رکھنے کیلئے آن لائین پورٹل کی سہولت کے متعلق سپریم کورٹ نے سال 2023 ء میں ہدایت دی تھی ، باوجود اس کے آن لائین ہدایات میں بے پناہ خامیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات پیپلز فرنٹ فار رائٹ ٹو انفارمیشن ( پی ایف آر آئی ) نے بتائی ۔ ریاستی صدر یادیا ، کنوینر ایم سرینواس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سرکاری محکمہ قانون کے تحت اطلاعات کو فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ آن لائین پورٹل جو کافی مددگار ہے تلنگانہ میں اس پر مکمل عمل آوری نہیں کی جارہی ہے بلکہ یہ طریقہ عوام دوست ثابت ہونے میں ناکام ہوگیا ہے ۔ انھوں نے ایک درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ریاست تلنگانہ میں آن لائین محکموں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر بتایا گیا کہ (444) ڈپارٹمنٹ کے (3321) انفارمیشن مراکز پائے جاتے ہیں جو آن لائین میں دستیاب ہیں ۔ یہ اطلاع انفارمیشن ٹکنالوجی اور کمیونکیشن ڈپارٹمنٹ سے پوچھی گئی تھی ۔ جب اس اطلاع کی جانچ و تحقیق کی گئی تو حیرت انگیز حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ریاست تلنگانہ کے اہم محکمہ جات آر ٹی آئی آن لائین سرویس کو دستیاب نہیں رکھتے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ، ایچ ایم ڈی اے میونسپل ایڈمنسٹریشن ہیڈ آفس ، واٹر بورڈ کے علاوہ ریاست کے (57) میونسپلٹیز میں صرف (29) میں آن لائین دستیاب ہیں جبکہ (33) کلکٹریٹ میں صرف (20) اور مزید یہ کہ چیف کمشنر لینڈ ایڈمنسٹریشن ( سی سی ایل اے ) بھی آن لائین دستیاب ہے اس طرح ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا برا حال ہے صرف (14) دفاتر آن لائین خدمات فراہم کررہے ہیں ۔ آر ٹی سی ہیڈ آفیس ڈائرکٹر آف میڈیکل ایجوکیشن کے علاوہ ریاست کی کوئی بھی یونیورسٹی آن لائین خدمات فراہم نہیں کرتی ۔ پیپلز فرنٹ فار رائیٹ ٹو انفارمیشن نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آر ٹی آئی کی آن لائین خدمات کو تمام محکموں کے ذریعہ فراہم کرنے کے یقینی اقدامات کو انجام دیتے ہوئے عوام کو سہولت فراہم کرے ۔ ع