قانون ساز ایوانوں کی کارروائی کے دورانیے میں کمی پر مایاوتی کو تشویش

   

لکھنؤ: 20 جنوری (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے کام کے اوقات میں مسلسل کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی وجہ بار بار کی رکاوٹوں، ہنگامہ آرائی اور کارروائی کے التوا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قانون ساز اداروں کی عوامی افادیت اور جمہوری کردار کمزور ہو رہا ہے ۔لکھنؤ میں منعقدہ تین روزہ 86ویں آل انڈیا پریذائیڈنگ آفیسرز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے مایاوتی نے منگل کو کہا کہ قانون ساز ایوانوں کی کارروائی کے دورانیے میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا جانا بروقت، مناسب اور قابلِ ستائش ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے اور طے شدہ اصلاحی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔مایاوتی نے کہا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں ہندوستان کے آئینی اور جمہوری نظام کا اہم ستون ہیں اور یہ عوامی مفاد میں حکومت اور انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کا مضبوط ذریعہ ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون ساز اداروں کی کارروائی قواعد کے مطابق اور پُرامن ماحول میں سال میں کم از کم 100 دن تک چلنی چاہیں۔

ایک الگ مگر اہم تبصرے میں بی ایس پی سربراہ نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری منظوری نہ ہونا کسی مدرسے کو بند کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

انہوں نے شراوستی کے ایک مدرسے سے 24 گھنٹوں کے اندر سیل ہٹانے کی ہدایت کو بھی سراہتے ہوئے اسے بروقت اور اہم فیصلہ قرار دیا۔

مایاوتی نے کہا کہ ان کے خیال میں کوئی بھی حکومت نظریاتی طور پر نجی مدارس کی مخالف نہیں ہوتی، بلکہ اس طرح کے واقعات اکثر ضلعی انتظامیہ کی سطح پر من مانی کارروائیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اس رجحان پر سختی سے قدغن لگائے ، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کا اعادہ نہ ہو۔