ایل رمنا اور مدھو سدن چاری کے نام زیر گشت، ایک نشست مسلم اقلیت کو الاٹ کرنے کا امکان
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں قانون ساز کونسل کی7 نشستوں کیلئے ٹی آر ایس قائدین کی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ توقع ہے کہ الیکشن کمیشن ارکان اسمبلی کوٹہ کے تحت کی 6 نشستوں کیلئے انتخابات کے سلسلہ میں اگسٹ میں اعلامیہ جاری کرے گا جبکہ ایک نشست گورنر کوٹہ کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ ماہ نوٹیفکیشن کا اشارہ ملتے ہی تمام طبقات نے کونسل میں اپنی نمائندگی کیلئے مساعی شروع کردی ہے۔ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے قائدین زیادہ متحرک دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ چیف منسٹر نے مختلف پسماندہ طبقات کو ایم ایل سی زمرہ کی نشستوں میں نمائندگی کا وعدہ کیا ہے۔ اسمبلی میں ٹی آر ایس کو واضح اکثریت حاصل ہے لہذا تمام نشستوں پر ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی بلامقابلہ ہوسکتی ہے۔ جون میں جن 6 ارکان کونسل کی میعاد ختم ہوئی ان میں صدرنشین کونسل جی سکھیندرریڈی، نائب صدر نشین این ودیا ساگر، سابق ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری، گورنمنٹ چیف وہپ بی وینکٹیشورلو، سابق وزیر محمد فرید الدین اور اے للیتا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گورنر کوٹہ کی نشست پر ایم سرینواس ریڈی کی میعاد مکمل ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کونسل میں پدما شالی، وشوا برہمن اور کومری طبقات کی نمائندگی کا پہلے ہی وعدہ کیا ہے۔ ان طبقات کی نمائندگی اسمبلی میں نہیں ہے۔ پدما شالی طبقہ کے متوقع امیدواروں میں تلنگانہ تلگودیشم کے صدر ایل رمنا کا نام سرفہرست ہے۔ ایل رمنا نے اگرچہ تلگودیشم میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن پارٹی قائدین کو امید ہے کہ بہت جلد وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوں گے۔ وشوا برہمن کوٹہ میں سابق اسپیکر ایس مدھو سدن چاری کا نام لیا جارہا ہے جبکہ کومری طبقہ سے تعلق رکھنے والے ٹی سرینواس اپنی امیدواری کے بارے میں پُرامید ہیں۔ باقی 3 نشستوں پر اعلیٰ طبقات کو نمائندگی دی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم ایل اے کوٹہ کی 6 نشستوں میں چیف منسٹر ایک نشست مسلم اقلیت کو الاٹ کرنے پر غور کررہے ہیں کیونکہ فرید الدین کی میعاد جون میں ختم ہوچکی ہے۔ مسلم اقلیت کے کئی قائدین کونسل کی نشست کیلئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق صدرنشین کونسل جی سکھیندرریڈی اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر کے سری ہری کو دوبارہ موقع دیا جاسکتا ہے۔ گورنمنٹ چیف وہپ وینکٹیشورلو بھی دوبارہ موقع دیئے جانے کے بارے میں پُرامید ہیں۔ بی سی طبقہ کے دیگر قائدین میں ٹی ایل سرینواس، کرشنا یادو کے علاوہ چیف منسٹر کے او ایس ڈی دیشاپتی سرینواس کا نام بھی پارٹی حلقوں میں زیر گشت ہے۔ ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ میں پارٹی ٹکٹ کے اہم دعویدار پوتی ریڈی کو چیف منسٹر نے کونسل کی نشست کا وعدہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حضورآباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کو پیش نظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر کونسل کے امیدواروں کا فیصلہ کریں گے۔