حکومت تلنگانہ سے دوسری سرکاری زبان کے ساتھ انصاف رسانی کا مطالبہ : محمد مصطفی علی سروری
حیدرآباد ۔ /19 ستمبر (پریس نوٹ) اُردو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے لیکن قانون ساز کونسل ریاست تلنگانہ کے اُردو مباحثوں کو اُردو زبان میں قانون ساز مقننہ کی ویب سائیٹ پر انتہائی بھونڈے انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کمشنر آف پرنٹنگ ، چنچل گوڑہ ، حیدرآباد سے بھی انہیں اسی انداز میں طبع کیا گیا ہے ۔ حکومت تلنگانہ ہی نہیں بلکہ کونسل و اسمبلی کے ان سبھی معزز اراکین کی ذمہ داری ہے جو اپنے آپ کو اُردو دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فوری اس جانب توجہ دیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد مصطفی علی سروری ، اسوسی ایٹ پروفیسر ، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی نے کیا ۔ اپنے ایک صحافتی بیان میں انہوں نے حکومتی ذمہ داروں ، محبان اُردو اور ارباب مجاز سے اپیل کی کہ وہ مقننہ کی سرکاری ویب سائیٹ پر کونسل کے اردو زبان میں مباحثوں کی زبان و بیان کی فاش غلطیوں کا سخت نوٹ لیں اور ریاست تلنگانہ کی سارے اُردو عالم میں جگ ہنسائی بننے سے روکیں ۔ شہر حیدرآباد اُردو زبان و ادب کا دارالخلافہ ہے اور اس شہر میں اُردو جاننے والے اہل اور قابل افراد کی کمی نہیں ہے ۔ حکومت تلنگانہ اُردو زبان میں کونسل کے سب مباحثوں کو صحیح زبان کے ساتھ پیش کرنے کیلئے مناسب اہل اور قابل عملہ کو تعینات کرے ۔ محمد مصطفیٰ علی سروری نے اس ضمن میں باضابطہ طور پر ایک مکتوب قانون ساز مقننہ کے سکریٹری کو بھی بھیج کر ان کی اس جانب توجہ مبذول کروائی ہے ۔