تلنگانہ میں 10 فیصد قبائیلی آبادی، گورنر ڈاکٹر سوندراراجن کا خطاب
حیدرآباد۔/13 فروری، ( سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے قبائیلی طبقہ کی ترقی کے لئے جامع منصوبہ کی ضرورت پر زور دیا۔ گورنر نے کہا کہ ریاست میں قبائیل کی آبادی 10 فیصد سے زائد ہے لہذا سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی کیلئے ہمیں سرگرمی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گورنر نے قبائیلی گروپس میں دیسی ساختہ راج سری برڈس تقسیم کئے۔ تلنگانہ اسٹیٹ ویٹرنری یونیورسٹی نے اس کا اہتمام کیا تھا۔ گورنر نے کہا کہ قبائیلی آبادی کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی ان کا ڈریم پراجکٹ ہے۔ معیار زندگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ گورنر نے قبائیلی طبقہ کی صحت پر خصوصی توجہ کا مشورہ دیا اور کہا کہ قبائیلیوں کو طبی سہولتوں کی کمی کے سبب مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے قبائیلیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی صحت بہتر رکھنے پر توجہ دیں اور اس کے لئے مہوا لڈو کا استعمال کیا جائے۔ گورنر نے انڈین ریڈ کراس سوسائٹی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن، ای ایس آئی سی میڈیکل کالج اور اگریکلچر، ویٹرنری، ہیلت اینڈ ہارٹیکلچر یونیورسٹیز کے اشتراک سے نیوٹریشن پائیلٹ پراجکٹ کے آغاز کی ستائش کی۔ ناگر کرنول، عادل آباد اور کتہ گوڑم میں تجرباتی طور پر اس پراجکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کا مقصد غریب ترین قبائیلی گروپس میں معاشی اور طبی شعبہ کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلف ایمپلائمنٹ کے فروغ کیلئے راج سری برڈس تقسیم کئے گئے تاکہ ان کی فارمنگ کی جاسکے۔ گورنر کے جوائنٹ سکریٹری رگھو پرساد، بھوانی شنکر کے علاوہ یونیورسٹی حکام موجود تھے۔ر