شہر اور اضلاع سے ٹیلی فون کالس، 10 میتوں کی تدفین کا انتظام: محمد سلیم
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) مسلم قبرستانوں میں مفت تدفین کے لیے تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے شروع کردہ تحریک کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ شہر اور اضلاع سے تدفین کے سلسلہ میں قبرستانوں کے متولیوں کی جانب سے انکار اور بھاری رقومات کے مطالبے سے متعلق روزانہ کئی شکایات ہیلپ ڈیسک کو موصول ہورہی ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہیلپ ڈیسک کی مدد سے تقریباً 10 قبرستانوں میں میتوں کی تدفین کا انتظام کرایا گیا اور متولیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مفت جگہ کی فراہمی کے انتظامات کئے گئے۔ ایک غریب خاندان کے لیے وقف بورڈ نے 5 ہزار روپئے کی امداد جاری کی تاکہ تجہیز و تکفین کا انتظام ہو۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے شہر اور اضلاع میں متولیوں کی جانب سے جگہ دینے سے انکار کی شکایت پر ہیلپ ڈیسک قائم کیا اور ایک ٹیلی فون نمبر جاری کیا۔ ہیلپ ڈیسک میں وقف بورڈ کے 8 ملازمین کو مقرر کیا گیا ہے جو 24 گھنٹے شکایات کی سماعت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تاڑبن کالے پتھر سے تعلق رکھنے والے خواجہ معین الدین کے پسماندگان کے لیے وقف بورڈ سے 5 ہزار روپئے اتوار کے باوجود جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں شہر اور اضلاع سے 100 سے زائد ٹیلی فون کالس ہیلپ ڈیسک کو موصول ہوئے جس میں مختلف درگاہوں کے متولیوں کی شکایت کی گئی ہے جو غریب افراد کو قبرستانوں میں مفت جگہ فراہم کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی متولی مفت تدفین سے انکار کرے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محمد سلیم کے مطابق 6 جون کو وقف بورڈ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں قبرستانوں کے انتظامات اور متولیوں پر کارروائی کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے علاوہ دیگر ریاستوں کے علماء و مشائخین اور عوامی نمائندوں کی جانب سے انہیں ٹیلی فون کال موصول ہورہے ہیں جس میں مفت تدفین کی مہم کی ستائش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عام مسلمانوں میں وقف بورڈ کے اس اقدام سے امید پائی جاتی ہے کہ متولی حضرات قبر کے لیے جگہ کی فراہمی کے سلسلہ میں رقم کا مطالبہ نہیں کریں گے۔