قبرستان میں بھی سرقہ کی واردات افسوسناک

   

جلوس جنازہ میں جیب کترے سرگرم، مغموم افراد کا گھر سارقین کا آسان نشانہ

حیدرآباد: قبرستان‘ جنازہ اورمیت کاگھر ایسے مقامات ہوتے ہیں جہاں پہنچ کر آخرت کا تصور پیدا ہونا ضروری ہے لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ میت کے گھروں کے علاوہ جلوس جنازہ اور قبرستانوں میں سارقوں کی جانب سے سرقہ کی وارداتیں انجام دی جانے لگی ہیں اور متوفی کے افراد خاندان سے اظہار ہمدردی کے دوران جیب کاٹنے سے گھریلو اشیاء کے سرقہ کی واردات تک انجام دی جانے لگی ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآبا دکے کئی علاقوں میں جلوس جنازہ کے دوران پاکٹ مار اور جیب کترے سرگرم رہنے لگے ہیں اور جنازوں میں شریک افراد کی جیب سے انکے موبائیل فون اور پاکٹ کا سرقہ کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں اس طرح کی کئی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔چند برس قبل شہر حیدرآباد میں جنازوں میں سارقوں کی ٹولیوں کے سرگرم ہونے کی متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد یکلخت ان واقعات میں کمی رونما ہونے لگی تھی لیکن اب دوبارہ میت کے گھروں اور جلوس جنازہ میں شریک لوگوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ میت کے گھروں میں عام طور پر مغموم افراد خانہ ہر پہنچنے والے کو اپنا ہمدرد تصور کرتے ہیں اور وہ اپنے غم میں ہونے کے سبب میت میں شرکت کے لئے پہنچنے والی سارقوں کی ٹولی پر توجہ نہیں دیتے ایسی صورت میں سارقین گھروں سے قیمتی اشیاء لیکر فرار اختیار کرتے ہیں اور متوفی کے افراد خاندان کو اس بات کا احساس کئی دنوں تک نہیں ہوتا کہ ان کے گھر سے کوئی قیمتی شئے کی چوری بھی ہوئی ہے۔ اسی طرح جب جلوس جنازہ گھر سے نکل جاتا ہے تو ایسی صورت میں گھر میں صرف خواتین ہوتی ہیں اور ان خواتین کے درمیان بھی بسا اوقات پیشہ ور سارق موجود ہوتے ہیں۔ جلوس جنازہ کے دوران سارقوں کی ٹولیاں مغموم افراد خاندان کے علاوہ جنازہ میں شریک لوگوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہوتی ہیں اور ان میں توجہ ہٹا کر ٹھگ لینے والی پیشہ ور ٹولیاں بھی سرگرم ہوتی ہیں۔ گہما گہمی اور عدم چوکسی کی صورت میں قبرستان میں تدفین کے دوران بھی پاکٹ ماروں کی جانب سے ہاتھ کی صفائی کے کئی واقعات منظر عام پر آنے لگے ہیں اور اب دیکھا یہ جا رہا ہے کہ چند برس قبل شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے حدود میں جلوس جنازہ اور میت کے گھروں کو نشانہ بنانے والی ٹولیوں کی سرگرمیوں کو دوبارہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق اس طرح کی صورتحال میں ہونے والے سرقہ کا احساس تاخیر سے ہونے کے سبب شکایات بہت کم ہی وصول ہوتی ہیں یا اس صورت میں ہی شکایات موصول ہوتی ہیں جب کوئی انتہائی قیمتی شئے کے سرقہ کو نوٹس کیا جاتا ہے۔