ملک میں کورونا خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے جب کہ دہلی میں حالات قابو سے باہر اور بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں ہیں ایک جانب دہلی کے نگم بودھ شمشان گھاٹ میں کورونا مہلوکین کے رشتے داروں کو آخری رسومات ادا کرنے کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے تو وہیں پہلے سے ہی قبرستان میں زمین کی کمی کا بحران شدید ہونے لگا ہے اور کورونا مہلوکین کے رشتے داروں کے لئے اپنے عزیز کی میت کے لیے دو گز زمیں کی تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حالات اتنے نازک ہیں کہ دہلی کے سب سے بڑے قبرستان میں اب صرف دو سو کاروں کی جہاں ہیں باقی بچی ہے۔ کیونکہ جدید قبرستان اہل اسلام میں کورونا مہلوکین کے لئے تقریبا تین ایکڑ زمین مختص کی گئی تھی۔ جس میں سے زیادہ تدفین کے کام میں استعمال ہو چکی ہے۔قبرستان کے اوپر محمد شمیم نے بتایا چار اپریل سے پہلے تک حالات کافی بہتر تھے تھے ہفتے میں ایک سے دو دو کورونا مہلوکین کو ہی قبرستان لایا جارہا تھا لیکن اچانک حالات تبدیل ہو چکے ہیں پچھلے دنوں میں ہم تقریبا 70 مہلوکین کو دفنا چکے ہیں۔ جگہ تیزی کے ساتھ ختم ہو رہی ہے کورونا مہلوکین کو قبرستان لانے میں کافی تیزی آئی ہے۔
