نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی قبرص کے ساحلی شہر وروشا کو دوبارہ کھولنے کے منصوبہ سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ شہر 1974 ء میں قبرصی تنازعہ کے بعد سے بند پڑا ہے۔ اس تنازعہ کے باعث جزیرہ قبرص 2حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ اس سے قبل یورپی یونین اور امریکہ بھی شمالی قبرص کے شہر کی بحالی کے منصوبے پر نکتہ چینی کر چکے ہیں۔ 1974 ء میں ترکی کے زیر انتظام شمالی قبرص اور یونان کے زیر انتظام جنوبی قبرص کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد سے یہ شہر مکمل طور پر بند پڑا ہے۔ اس وقت یونان نے بغاوت کے ذریعے جزیرہ قبرص کو اپنے علاقے میں ضم کرنے کی کوشش کی تھی، جس کی وجہ سے ترکی نے قبرص پر حملہ کر دیا تھا۔ گزشتہ برس ترکی نے شمالی قبرص کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس شہر کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ترکی کا موقف ہے کہ جزیرہ قبرص کے تنازعہ کا تصفیہ صرف دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ 2004 ء میں قبرص کو دوبارہ متحدہ کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئی تھیں،جس کے بعد سے ترکی اپنے موقف پر قائم ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردغان نے شمالی قبرص کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ تنازعہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی نصف صدی پر محیط کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور اب اس کا حل یہی ہے کہ دو نوں قوموں کے لیے برابر حقوق کے ساتھ 2 ریاستیں ہوں۔ ادھر ترک وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں سلامتی کونسل کے بیان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہ موقف حقیقت سے بہت دور ہے۔