قبل از پیدائش جنس کا تعین اور اسقاط حمل کرنے والے گروہ کی گرفتاری

   

18 ارکان گرفتار ، چند مفرور ، آسانی سے رقم کمانے کی کوشش ورنگل پولیس کمشنر رنگاناتھ کی پریس کانفرنس

ورنگل /29 مئی (سیاست ڈسٹرک نیوز )ہنمکنڈہ میں بڑی رقم لے کر غیر قانونی طور پر قبل از پیدائش کے تعین کے ٹیسٹ کروانے اور اسقاط حمل کروانے والے گروہ کی گرفتاری عمل میں آئی ورنگل پولیس کمشنر اے وی رنگا ناتھ نے پو لیس کمشنر یٹ میں منعقدہ پریس کا نفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ (اے ایچ ٹی یو) ٹاسک فورس ٹیم اور کے یو سی پولیس کی طرف سے ایک مشترکہ آپریشن کیا گیا ہے، جس میں ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا گیا ہے جو غیر قانونی طور پر قبل از پیدائش جنس کے تعین کے ٹیسٹ کروانے اور اسقاط حمل کروا رہا تھا۔ (18) رکنی گینگ کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے (3) سکینر، (10) سیل فون اور 73,000 روپئے نقد ضبط کئے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ گینگ کے کچھ ارکان مفرور ہیں۔ گرفتار ملزمان کے نام یہ ہیں ویمولا پروین، ویمولا سندھیا را نی، ڈاکٹر بالنے پارتھو، ڈاکٹر مورم اراوندا، ڈاکٹر مورم سری نواس مورتی، ڈاکٹر بالنے، پورنیما، بالنے پردیپ ریڈی، کیتا راجو، ٹلہ ارجن، ڈی پرانے بابو، کیرتی موہن، بالنے اشلاتھا، کونگارا رینوکا، بھوکیا انیل، چنگیلی جگن، گنارپو سریلاتھا، بندی ناگراجو اور کاسیراجو دلیپ۔ ان گرفتاریوں کے تعلق سے ورنگل پولس کمشنر سری اے وی رنگناتھ نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں شکایت ملی کہ کچھ لوگ غیر قانونی جنس کا تعین کر رہے ہیں اور یہ معلوم ہونے پر کہ بچی کی پیدائش ہو رہی ہے تو اس کا اسقاط حمل بھی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اے ایچ ٹی یو، ٹاسک فورس پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم جس نے ضلع اور طبی محکمہ صحت کے عہدیداروں کے ساتھ اس معاملے کی تحقیقات شروع کی اور ڈیکو آپریشنز کئے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ گینگ کے ارکان غیر قانونی جنس کا تعین اور اسقاط حمل کر رہے ہیں۔اس گینگ کا مرکزی ملزم ویمولا پروین ہے جو اس سے قبل اسکیننگ سینٹر میں بطور ٹیکنیشن کام کرچکا ہے اس نے اس طریقہ کار کو بھاری اور آسانی سے غیر قانونی رقم کمانے کا راستہ تلاش کیا۔ اس سلسلے میں اس نے اپنی بیوی سندھیار انی کے ساتھ کے یو سی پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع گوپال پور کی وینکٹیشوارا کالونی میں کرایہ پر مکان لیا اور حاملہ خواتین کے لیے غیر قانونی جنس تعین اسکیننگ سینٹر چلانا شروع کیا، کچھ عملہ کی خدمات حاصل کرکے پورٹ ایبل اسکینرز کے ساتھ خفیہ طور پر کام شروع کردیا۔ مرکزی کردار ادا کرنے والے ملزم ویمولا پراوین نے آر ایم پیز، پی اوز، اسپتال انتظامیہ، طبی عملہ اور کچھ ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ اس کے بعد، حاملہ خواتین جو بھی اس کے جنین کی جنس کا تعین جاننا چاہتی ہے اور یہ جاننے کے بعد کہ وہ لڑکی کو جنم دینے والی ہیں اس گینگ کے ارکان کچھ اسپتالوں میں اسقاط حمل کروا رہے ہیں جس میں لوٹس اسپتال ہنمکنڈہ، گایتری ہسپتال نیک کو نڈہ میں اپیندر (پردھو) ہسپتال، نرسم پیٹ ، بالاجی ملٹی اسپیشلٹی ہسپتا ل کا تعاون حاصل تھا۔ ان ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملہ بھاری رقم فیس لے کر حاملہ خواتین کا اسقاط حمل کرواتے رہے اور پھر اتنی ہی رقم ان میں بانٹ لی جاتی رہی۔ ہر اسقاط حمل کے لیے ہر مریض سے 20 سے 30 ہزار روپے وصول کر رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ اب تک اس گینگ کے ارکان 100 سے زائد اسقاط حمل کروا چکے ہیں۔ اے ایچ ٹی یو، ٹاسک فورس، کے یو سی پولیس، طبی اور محکمہ صحت کے افسران جنہوں نے اس کیس کا پردہ فاش کرنے اور گینگ کے ارکان کو گرفتار کرنے میں سخت جدوجہد کی، کمشنر آف پولیس ورنگل اے وی رنگناتھ نے ان کی ستائش کی ۔