تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے ، اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ، ای پدی ریڈی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے موقع پر کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 30 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں سماجی انصاف ہوگا ۔ ذات پات اور مذہب سے بالا تر ہو کر سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے ۔ انہیں قتل بھی کردیا جائے تو وہ جھوٹ نہیں بولیں گے ۔ بی جے پی کے قائد سابق وزیر ای پدی ریڈی نے آج اپنے 31 حامیوں کے ساتھ تلنگانہ بھون پہونچکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تلگو دیشم کے بانی اراکین میں ہمارا شمار ہوتا ہے ۔ ای پدی ریڈی میرے اچھے دوست ہیں ۔ ہم دونوں نے ایک ساتھ وزارت میں کام بھی کیا ہے ۔ ریاست کے سیاسی حالت اور عوامی مسائل اور حکومت کی کارکردگی سے ای پدی ریڈی اچھی طرح واقف ہے ۔ تلنگانہ میں ترقیات کا حصہ بننے اور عوامی خدمات انجام دینے کے لیے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ۔ ٹی آر ایس میں وہ ای پدی ریڈی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل روشن رہے گا ۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلہ کو سیاست سے جوڑنے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔ دلت بندھو ایک اسکیم نہیں بلکہ تحریک ہے ۔ اس اسکیم کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ایک سال قبل ہی اس اسکیم پر عمل آوری ہونی چاہئے تھی مگر کورونا بحران کی وجہ سے اس کی عمل آوری میں تاخیر ہوئی ہے ۔ آہستہ آہستہ اس اسکیم کو ساری ریاست میں توسیع دی جائے گی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ریاست میں 24 گھنٹے بلا وقفہ برقی سربراہ کرنے کا اسمبلی میں وعدہ کیا تھا جس کو کانگریس کے قائد کے جانا ریڈی نے ناممکن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر 24 گھنٹے برقی سربراہ کیا گیا تو وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوں گے ۔ 24 گھنٹے برقی سربراہ کرنے کے باوجود جانا ریڈی اپنے وعدے سے انحراف کر گئے جس کی وجہ سے عوام نے انہیں ناگر جنا ساگر کے ضمنی انتخابات میں شکست دے دی ۔ انہوں نے حکومت پر اپوزیشن کی تنقیدوں پر ہاتھی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھی جارہا تھا اور جانور پکار رہے ہوتے ہیں ۔ جس طرح ہاتھی جانوروں کو اہمیت نہیں دیتا وہ بھی اپوزیشن کے تنقیدوں پر کوئی جواب نہیں دیتے ۔ ان کی کارکردگی ہی اپوزیشن کے لیے جواب ہوگی ۔ عوامی مسائل پر انسانی ہمدردی سے غور کیا جاتا ہے وہ حل ہوتے ہیں ۔ تلنگانہ اب ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے ۔ اچھے برے کی عوام کو تمیز ہے وہ ہی صحیح وقت پر مناسب فیصلہ کریں گے ۔ تلنگانہ کے اثاثہ جات کو بِڑھانے کے لیے وہ رات دن کام کررہے ہیں ۔ ایک طرف ریاست تلنگانہ جہاں دولت مند اسٹیٹ میں تبدیل ہوگئی وہیں ترقی اور فلاحی اسکیمات کے معاملے میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست مقام حاصل کرچکی ہے ۔ پڑوسی ریاستوں کے سرحدی اضلاع میں رہنے والے عوام تلنگانہ کی ترقی اور فلاحی اسکیمات سے متاثر ہو کر ان کے گاؤں کو تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔۔