قتل کی واردات میں اضافہ، شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس

   

پرانے شہر پر پولیس کی توجہ نہیں، چندرائن گٹہ حدود میں نوجوان کے قتل کا واقعہ
حیدرآباد۔ 11 جولائی (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ میں آئے دن قتل کی واردات کا پیش آنا عام بات بنتی جارہی ہے۔ کل رات دیر گئے چندرائن گٹہ حدود میں ایک نوجوان کا قتل کردیا گیا۔ قتل کی یہ واردات پرانے شہر میں سنسنی کا سبب بن گئی جہاں 25 سالہ عبدالعزیز عرف اطہر پر نامعلوم افراد نے حملہ کرتے ہوئے اس کا قتل کردیا اور نعش کو بالاپور کٹہ کے قریب پھینک دیا۔ صبح کی اولین ساعتوں میں نعش کو دیکھ کر عوام نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس سمجھتی ہے کہ رات دیر گئے عزیز کا قتل کردیا گیا۔ عزیز کنچن باغ کے عمر کالونی کا ساکن تھا جو کل رات بیوی بچوں سے ملاقات کے لئے نکلا تھا اور آج صبح اس کی نعش دستیاب ہوئی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مقام واردات سے انجکشن دستیاب ہوئی جس کے سبب یہ واردات نشہ کرنے والوں کی جانب سے انجام دینے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ نشہ کی لعنت سے شہر اور ریاست کو پاک بنانے کی کوشش اور اقدامات ایسی وارداتوں سے بے بنیاد ثابت ہو رہے ہیں۔ پرانے شہر پر پولیس کی توجہ نہیں ہے یا پھر پولیس پرانے شہر پر اپنی توجہ دینا نہیں چاہتی۔ رات دیر گئے کاروباری سرگرمیاں اور غیر سماجی عناصر کی حرکتیں ایسی وارداتوں کو جنم دینے کا سبب بن رہی ہیں، جو شہریوں میں عدم تحفظ اور شہر کی بدنامی کے خوف کو پیدا کررہی ہیں۔ شہر کو مثالی اور پرامن شہر بنانے کے اقدامات انجام دینے والی پولیس کو چاہئے کہ وہ ان علاقوں پر خصوصی توجہ دیں۔ 25 سالہ عزیز عرف اطہر پیشہ سے کار ڈرائیور تھا اور کنچن باغ حدود میں اس کی مشتبہ شیٹ کھولی گئی تھی جو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ مرحوم کے والد نے بتایا کہ ان کا لڑکا کل رات بیوی بچوں سے ملاقات کے لئے گھر سے نکلا تھا۔ محمد بابر جو مقتول عزیز کے والد ہیں میڈیا کو بتایا کہ ان کا لڑکا گانجہ استعمال کرنے والوں کے ساتھ رہتا تھا۔ معتبر اطلاعات کے مطابق چندرائن گٹہ پولیس نے اس سلسلہ میں کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس بات کی توثیق نہیں کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ ع