بلدیہ خاموش تماشائی، سدا سیو پیٹ میں ماہانہ بلدی اجلاس کا انعقاد
سداسیواپیٹ : بلدیہ میٹنگ ہال سداسواپیٹ میں آج ماہانہ بلدی اجلاس نائب صدر نشین بلدیہ چلتا گوپال کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں جملہ 51 نکات پیش کئے گئے۔اس اجلاس میں اراکین بلدیہ الیاس شریف ، اندرا موہن گوڑ ،پرکاش چوہدری ، سرنیواس ، عبدالقدوس قریشی نے بلدی عہدے داروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ قدیم ہائی وے پر غیر قانونی طور پر 34 دوکانات کو تعمیر کیے جا رہے ہیں۔اس تعمیری کام پر بلدی عہدیداروں کا موشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اگر کوئی غریب آدمی ایک کمرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس پر بلدیہ دیدار طرح طرح کے قواعد دکھا کر پریشان کرتے ہیں۔لیکن کوئی امیر آدمی بغیر پرموشن کے بڑے بڑے شاپنگ مالز عمل کرتا ہے تو اس پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔سیداپور کے قریب حیدرآباد سے ممبئی جانے والی گیاس پائپ لائن کے اوپر رہائشی ونچر تعمیر کیا جارہا ہے۔اگر آنے والے دور میں کسی وجہ سے گیاس پھٹ جاتی ہے تو عوام کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔اس پر بھی بلدی عہدیدارون خاموشی کا اظہار کر رہے ہیں۔اس وقت پر اراکین بلدیہ نے بلدی عہدیداروں پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت 6 کروڑ روپے کی لاگت سے منی ٹینک بنڈ تعمیر کیا ہے جس پر بھاری بھاری لوڈ لیکر لاریاں گزرنے کی وجہ سے سڑک خراب ہو رہی ہے جس کو اوری طور پر روکا جانے کا مطالبہ کیا۔اس اجلاس میں طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے صدر نشین بلدیہ جیہ اماں نے شرکت نہیں کی۔کافی بحث و مباحثہ کے بعد تمام نکات کو منظوری دے دی گئی۔ اس اجلاس میں کمشنر بلدیہ نے کرشنا ریڈی کے علاوہ اراکین بلدیہ نسرین بیگم , ریشماں انجم , شہزادی بیگم , ممتاز بیگم , رضیہ بیگم اور معاوین رکن بلدیہ سید کلیم پٹیل اور نسرین بیگم موجود تھے۔
