قدیم سکریٹریٹ کے روبرو یوتھ کانگریس کارکنوں کا دھرنا

,

   

انہدام کے بجائے کوویڈ ہاسپٹل بنایا جائے، انیل کمار اور دیگر قائدین کی گرفتاری
حیدرآباد۔ تلنگانہ سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے انہدام کے خلاف یوتھ کانگریس کی جانب سے آج دھرنا منظم کیا گیا۔ صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو کی قیادت میں یوتھ کانگریس کارکنوں نے سکریٹریٹ کے باب الداخلہ پر دھرنا منظم کرتے ہوئے عمارتوں کو کوویڈ ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کی مانگ کی۔ نامپلی اسمبلی حلقہ کے انچارج فیروز خاں اور دیگر قائدین نے احتجاج میں حصہ لیا۔ یوتھ کانگریس قائدین اور کارکن کچھ فاصلہ تک پیدل چل کر سکریٹریٹ کی عمارت کے قریب پہنچے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ وہ عمارتوں کے انہدام کی مخالفت کررہے تھے۔ پولیس نے فوری پہنچ کر احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انیل کمار یادو نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کی آڑ میں حکومت قدیم عمارتوں کو منہدم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ کورونا کے مریضوں کیلئے سرکاری دواخانوں میں بستروں کی کمی ہے لہذا حکومت کو سکریٹریٹ کی عمارتیں آئسولیشن سنٹر اور ہاسپٹل کے طور پر استعمال کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ کی عمارتوں کا انہدام عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ عمارتوں میں تقریباً 10 ہزار بستروں کا دواخانہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ غریب مریضوں کی بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو اس سلسلہ میں اپنا فیصلہ تبدیل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال دن بہ دن تشویشناک رُخ اختیار کرچکی ہے۔ اسی دوران پردیش کانگریس کے خازن جی نارائن ریڈی نے قدیم سکریٹریٹ کی عمارتوں کو کوویڈ ہاسپٹل یا کورنٹائن سنٹر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ عمارتوں کا انہدام اور نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے 1000 کروڑ درکار ہیں لہذا حکومت کا یہ فیصلہ عوامی رقومات کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ چیف منسٹر کو کورونا کے مریضوں کے بہتر علاج کی فکر کرتے ہوئے عمارتوں کے انہدام کا منصوبہ ترک کرنا چاہیئے۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ موجودہ عمارتیں کافی مضبوط ہیں اور انہیں ہاسپٹل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔