قدیم نادر و نایاب مخطوطات و کتب کی اصلی حالت میں بحالی اور تحفظ زندگی کا اہم مقصد

   

جناب زاہد علی خاں سے ایران کے ماہر تحفظ مخطوطات ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کی ملاقات ، ادارہ ادبیات اردو کے قیمتی مخطوطات کی بھی کیٹلاگنگ
حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد علم و ہنر کا مرکز ہے اور یہاں کے تعلیمی اداروں ، کتب خانوں ( سرکاری و غیر سرکاری ) اور علمی گھرانوں میں نادر و نایاب مخطوطات ، مسودات ، دستاویزات ، قدیم کتب اور مکتوبات ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ لیکن شہر کے اہم تعلیمی اداروں اور کتب خانوں میں جو اہم کتب و مخطوطات ہیں ان کے تحفظ ان کی دیکھ بھال انہیں دیمک اور دوسرے حشرات الارض موسمی اثرات سے بچانے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اس فن کے ماہر ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات میں کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے جناب اکبر نیرومن کی موجودگی میں ایڈیٹر سیاست و صدر ادارہ ادبیات اردو جناب زاہد علی خاں کو ادارہ ادبیات اردو کے قدیم و اہم ترین مخطوطات و کتب کی مرمت کرتے ہوئے چار Volume میں تیار کردہ اردو فارسی کیٹلاگ پیش کیا ۔ اس موقع پر جنرل سکریٹری ادارہ ادبیات اردو پروفیسر ایس اے شکور ، نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، جناب علی حیدر رضوی ، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خدا نمائی بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ادارہ ادبیات اردو کے قیمتی مخطوطات اور کتابوں کو متحدہ عرب امارات کے ممتاز صنعت کار جمعہ الماجد نے ڈیجیٹلائز کروایا تھا ۔ ان ہی مخطوطات اور کتب کی بائنڈنگ نکل گئی تھی اور ان کی مرمت ضروری ہوگئی تھی ۔ ان حالات میں ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری اور ان کے نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سنٹر نے آگے بڑھتے ہوئے مفت خدمات پیش کی اور پھر اس کام کو بڑی کامیابی سے مکمل کر کے اس کی کیٹلاگنگ کرتے ہوئے صدر ادارہ ادبیات اردو جناب زاہد علی خاں کو پیش کیا ۔ اس کیٹلاگنگ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ریسرچ اسکالرس کے لیے فائدہ بخش ہے ۔ اس کے ذریعہ آپ مصنف یا مولف موضوع مضمون کے بارے میں بآسانی معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کے مطابق مخطوطات اور کتب بالخصوص دینی کتب و مواد کے معاملہ میں ہندوستان عالمی سطح پر دوسرا مقام رکھتا ہے جن کا تحفظ ضروری ہے ۔ انہوں نے چالیس سال قبل ہندوستان کا دورہ کیا ۔ انہیں یہاں قیمتی و قدیم نادر و نایاب مخطوطات و کتب کی تباہی کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا ۔ تب ہی انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ہندوستان میں رہ کر ہی یہاں مخطوطات و کتب کے نایاب خزانوں کا تحفظ کریں گے ۔ چنانچہ وہ چالیس برسوں سے ہندوستان میں مقیم ہیں اور ان کی ہی ایماء پر ایران کلچر ہاؤس نئی دہلی میں نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سنٹر قائم کیا گیا اور یہ سنٹر قاضی نور اللہ شوستری کی یاد میں قائم کیا گیا جو اپنے دور کے ممتاز عالم محدث ، ادیب و شاعر تھے ۔ اس سنٹر کے قیام کا اصل مقصد اسلامی و ایرانی وراثت کا تحفظ اور اس کی اشاعت تھا ۔ یہ مرکز ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کی قیادت میں اہم مخطوطات اور کتب کا نہ صرف ڈیجیٹائزیشن میں مصروف ہے بلکہ اس نے 70 ہزار سے زائد مخطوطات اور زائد از 13 لاکھ دستاویزات مسودات کو 8 قومی کتب خانوں کے تعاون سے digitise کیا ۔ ان کتب خانوں میں مولانا آزاد لائبریری ( علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ) ، ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری ( JMI ) ، جامعہ ہمدرد لائبریری ، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد ( اسٹیٹ سنٹرل لائبریری ) اور نیشنل آرکائیوز آف انڈیا شامل ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری نے بتایا کہ بڑودہ میں دنیا میں قرآن مجید کا سب سے بڑا نسخہ ہے جو بڑودہ کے راجہ کی خواہش پر پیش کیا گیا تھا اور اس کے خطاط ایران کے محمد غوث تھے ۔ مہدی خواجہ پیری کے مطابق اس قرآن مجید کا وزن 3 ٹن ہے اور انہوں نے اب تک قرآن مجید کے اس نسخہ کے 6 پاروں کو اپنے تیار کردہ محلول و مواد کے ذریعہ پہلی حالت میں بحال کیا اور 6 پاروں کے صفحات کی اصل حالت میں بحالی کا کام 6 برسوں میں مکمل ہوا ۔ قرآن مجید کے اس نسخہ کا سائز 1.½x1m میٹر ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اب تک 15 لاکھ صفحات کی مرمت کرچکے ہیں ۔ جناب اکبر نیرومن نے اس موقع پر بتایا کہ حیدرآباد فرخندہ بنیاد اور ایران کے قدیم تعلقات ہیں اور نور انٹرنیشنل مائیکرو فلم سنٹر انتہائی قدیم ایسی کتب اور مخطوطات و دستاویزات کی مفت بحالی و مرمت کی پیشکش کرتا ہے جنہیں دیمک اور ہماری اپنی بے توجہی نے نقصان پہنچایا ہو۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے اس سلسلہ میں ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔۔