’’لا مکان‘‘ بنجارہ ہلز میں پروفیسر مظفر علی شہ میری اور پروفیسر اشرف رفیع کا خطاب
حیدرآباد 17 اگست (پریس نوٹ ) قرآن کریم میں جتنے استعارے استعمال ہوے ہیں ، وہ سب کے سب آفاقی ہیں۔ آفاقی سے یہ مراد ہے کہ انھیں دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی ملک، کسی بھی تہذیب، کسی بھی عہد میں آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔ قابل غور بات یہ ہیکہ انھیں نہ صرف ادبی ذوق رکھنے والے تعلیم یافتہ قارئین سمجھ سکتے ہیں بلکہ غیر تعلیم یافتہ بھی ان سے ہدایت حاصل کر سکتے ہیں۔” پروفیسر مظفر علی شہ میری سابق وائس چانسلرڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول،آندھرا پردیش نے اپنے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہاکہ یہ ’’ قرآنی استعاروں کی فنی عظمت ‘‘ بہت جلد شائع ہونے والی ہے۔نیز انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس تحقیق کے حاصل مطالعہ کے طور پر جو درجن بھر نکات انھیں حاصل ہوے ہیں ان میں سے وہ آج صرف اس ایک نکتہ کی وضاحت فرمائیں گے کہ قرآنی استعارے آفاقی ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوے انھوں نے کہا کہ جب کوئی ادب تخلیق ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو مقامی اثرات سے بچا نہیں سکتا۔ مثلا اگر کوئی شاعر یا ادیب ہندوستان میں شعر وادب تخلیق کرتا ہے تو اس کے ادب میں لامحالہ یہاں کے پہاڑوں کے نام، ندیوں اور دریاوں کے نام، تہواروں کے نام شامل ہونے کے علاوہ یہاں کے رسم ورواج، لوک گیت، لوک کہانیاں ، اور دیومالائی ادب وغیرہ کا اثر اس پر دکھائی دیتا ہے۔ جب کہ قرآنی استعاروں کی یہ انفرادیت ہے کہ انھیں سمجھنے کے لیے کسی خاص ملک کسی خاص تہذیب یا کسی خاص ماحول میں پیدا ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ آفاقی ہیں اور انھیں ہر ملک، ہر تہذیب، ہر ماحول، اور ہر عہد میں سمجھا جاسکتا ہے ۔ اس موقع پر سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر محترمہ اشرف رفیع نے اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر مظفر علی شہ میری کی مذہبی، ادبی و علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دلی مبارکباد دی ۔اس طرح کے جذبے جب نمایاں ہوتے ہیں تو اہل ایمان کے قلب و نظر میں گہرائی و گیرائی پیدا ہوتی ہے ۔پروفیسر مظفر علی شہ میری کی پیکری نظموں کے مجموعے “پیکرہ” کی رسم اجرا محترمہ انیس عائشہ کے دست مبارک سے عمل میں آئی۔اس اور یادگار جلسے کی صدارت پروفیسر اشرف رفیع نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دی۔ “بزم سخن” اور “سی۔ڈی۔پی۔پی کے منتظمین ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر عامراللہ خان اور جناب اشہر فرحان نے اس جلسے کا انعقاد کیاتھا۔ ڈاکٹر صادقہ امیمہ بابر،محترمہ شمشاد بیگم شہ میری ،جناب اسد ثنائی، مولانا ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی، ڈاکٹر غوثیہ بانو، ڈاکٹر زرینہ، ڈاکٹر سمیہ تمکین، جناب نعیم، جناب اسحق ، محترمہ عذرا ،جناب رضا پرویز جگنوکے علاوہ سامعین شریک جلسہ رہے۔