” قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا ، اس کے احکام پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا پوری امت کی ذمہ داری ہے ۔ “ 19 اکتوبر 2022 (بدھ) کو اسلام جمخانہ ، ممبئی میں منعقدہ کانفرنس میں مقررین نے مذکورہ بالا اظہار خیال کیا ۔ جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر مہم ‘رجوع الی القرآن’ کے تعلق سے اس مہم کے سربراہ مولانا محمد رضی الاسلام ندوی نے ، جو جماعت اسلامی کی شریعہ کونسل کے سکریٹری ہیں ، علماء ، ائمۂ مساجد اور معززین شہر کو مخاطب کرتے ہوئے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ہم اس مقدس کتاب سے سے اپنارشتہ حقیقی معنوں میں استوار کریں ، اسی میں ہمارے تمام مسائل کاحل مضمر ہے اور اسی سے نجات ممکن ہے _ “ انھوں نے یہ بھی کہا کہ” آج صورت حال یہ ہے کہ ہم قرآن کو خیر و برکت کے لیے پڑھتے ہیں _ قرآن خوانی انتقال کرجانے والے کے لیے کی جاتی ہے _ کسی اختلاف کے وقت اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی جاتی ہے _ کیا ان ہی مقاصد کے لئے قرآن نازل کیا گیا تھا؟ نہیں ، بالکل نہیں _ یہ پوری ملّت کی ذمے داری ہے کہ وہ قرآن کے احکام پر عمل کرے اور اپنی زندگی میں نافذ کرے _ “ اس موقع پر مولانا نصیر اصلاحی نے کہا کہ یہ کوئی نئی مہم نہیں ہے اور نہ کوئی نیا عنوان ہے ، بلکہ یہ ایک یاددہانی ہے _ ہم سب کواعتراف ہے کہ آج عوام کا نہیں ، بلکہ خواص کا بھی قرآن سے وہ تعلق نہیں رہ گیا ہے جو اس کا حق ہے _ قرآن فہمی کی عملی تصویر سے متعلق ہم کچھ کریں _ اس تعلق سے انھوں نے نور الدین ترکی کا واقعہ بیان کیا کہ انھوں نے ایمان قبول کرنے کے بعد ‘ قرآنی ویلیج ‘ قائم کیا اور کہا کہ لوگ دیکھیں کہ قرآنی ویلیج میں رہنے والے کیسے ہوتے ہیں؟ عبدالحسیب بھاکر نے کہا کہ ” حضرت شیخ الہند نے مالٹا کی قید میں کہا تھا کہ مجھے مسلمانوں کی پستی اور تباہی کے دو اسباب نظر آۓ : اول قرآن کو چھوڑ دینا اور دوسرا آپس کا اختلاف ۔ یہ مہم صرف جماعت اسلامی کی مہم نہیں ہے ، بلکہ یہ پوری ملت کا کام ہے ۔ جماعت اسلامی ہند حلقۂ مہاراشٹر کے امیر جناب رضوان الرحمن نے کہا کہ ” آج قرآن کو ہم نے Not reachable بنادیا ہے ، اسے reachable بنانا ہے _ ممبئی نے اس سے قبل بھی ثابت کیا ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر کارآمد ہو ۔ سبھی متفق ہیں ، اس لیے آئیے ، مل کر اس کام کو کریں _ “ اس کانفرنس میں مشورے اور تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ مولانا روح ظفر نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس پیغام کو عام کرنا چاہیے ۔ ایک صاحب نے قرآن کے حقوق کی ادائیگی کی جانب متوجہ کیا _ انیس اشرفی کے مطابق ائمہ کی ذہن سازی کی جائے _ میری تجویز ہے کہ عوام اپنی جانب سے علماء اور ائمہ سے کہیں کہ ہم آپ سے قرآن کی تفسیر اور تشریح سننا چاہتے ہیں _ مولانا ضیاء اللہ ندوی نے روزانہ اپنے گھر میں قرآن پاک مع ترجمہ تلاوت کرنے پر زور دیا ۔ مولانا ظہیر عباس رضوی نے کہا کہ ہم اس مجلس میں یہ طے کر کے اٹھیں کہ ہماری زندگی قرآن کے فرامین کی روشنی میں ہوگی ۔ شبیر بھوپالی نے کہا کہ ہم بڑے علماء کا پروگرام عام کریں _ مولانا محمود دریابادی نے کہا کہ ائمہ کو بھیجے جانے والے خطبۂ جمعہ کو مقامی زبان میں بھیجیں ۔