قرآن ضابطہ حیات اور حدیث مشعل راہ۔ اخلاق اور کردار ترقی کے ضامن

   

ضیاء الاسلام ہائی اسکول کا سالانہ جلسہ ،جناب عامر علی خاں و دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 22 ؍ دسمبر (پریس نوٹ) مسلمانوں کے زوال پستی، بے وزنی اور ان کی ترقی کی رفتار میں کمی کی سب سے اہم وجہ قرآن سے دوری ہے۔ جب تک مسلمانوں نے قرآن کو اپنا ضابطہ حیات اور مشعل راہ بنایا اس وقت تک دنیا پر ان کی حکمرانی رہی۔ جب قرآن کو جزدان میں لپیٹ کر طاق کی زینت بنادیا گیا تب سے مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہوا۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کیا۔ وہ سکندرآباد کی 130سالہ قدیم ضیاء الاسلام ہائی اسکول کے سالانہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مخاطب تھے۔ جناب مسعود عبدالقادر چیرمین، جناب سلمان نائب صدر اور جناب جمیل احمد قریشی پرنسپل شہ نشین پر موجود تھے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ دنیا نے ہر شعبہ حیات میں جو بھی ترقی کی ہے‘ وہ قرآن مجید کی نزول کے بعد کی ہے۔ قرآن مجید میں تمام علوم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور باربار تاکید کی گئی ہے کہ تدبر کیا کرو۔ جب تک مسلمانوں نے قرآن کو اپنا رہنما مان کر اس کی تعلیمات پر عمل کیا‘ دنیا ان کے آگے سرنگوں رہی۔ قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے احادیث کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ دنیا کے ہر فرد کے لئے ایک مثالی زندگی گذارنے کی رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے دینی اور عصری تعلیم کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم قرار دیا اور کہا کہ دینی تعلیمی مدارس اور عصری تعلیمی مدارس کے درمیان تفریق‘ انگریزوں کے دور سے ہوئی ہے۔ عصری تعلیم چاہے کتنی بھی اعلیٰ درجہ کی کیوں نہ ہو‘ دینی تعلیم کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ اسی طرح دینی تعلیم حاصل کرنے والے عصری تعلیم سے آراستہ ہوں تو وہ اپنے دین کی صحیح تبلیغ کرسکتے ہیں اور اسلام کی صحیح انداز میں ترجمانی کرسکتے ہیں۔ جناب عامر علی خان نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنے اخلاق کو سنواریں اور کردار کو بلند کریں۔ مختلف زبانوں بالخصوص انگریزی پر عبور حاصل کریں۔ کمیونکیشن اسکلس ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ میں کامیابی کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹکنالوجی، بائیو ٹکنالوجی کے شعبوں میں مہارت حاصل کرے کیو ںکہ یہ دور اِسی کا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مسابقتی ا متحانات میں حصہ لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ قابلیت کو تعصب پرستی سے کچلا نہیں جاسکتا۔ مسابقتی امتحانات میں حصہ لینے والے مسلم طلبہ کا تناسب بہت کم ہے جس کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں آزادی کے وقت جو تناسب 42فیصد تھا وہ اب دو فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے قوم کے ہمدردوں کو مشورہ دیا کہ وہ مستحقین کی امداد ضرور کریں مگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ جس کی امداد کی جارہی ہے وہ اس کے عادی نہ ہوجائیں بلکہ انہیں ہنرمند بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے لئے انہوں نے جرمن کہاوت کا حوالہ دیا کہ ’’کسی کو مچھلی کھلانے کے بجائے اُسے مچھلی کا شکار کرنا سکھایا جائے‘‘۔ انہوں نے ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالات سے مایوس اور پریشان نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ مایوسی کفر ہے‘ موت کے ڈرسے کوئی جینا نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ مسلمانوں کو پورے حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین پر جینا ہے۔ ہندوستان پر مسلمانوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے برادران وطن کا۔ انہوں نے دیگر برادرانِ وطن سے بھی اخلاق سے مل جل کر رہنے کی تلقین کی اور اس بات پر مسرت و طمانیت کا اظہار کیا کہ آج مسلمانوں کے نازک ترین حالات میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پوری فراخ دلی کے ساتھ ساتھ دے رہے ہیں جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ہندوستانی عوام کی اکثریت مل جل کر رہنے پر یقین رکھتی ہے۔ ضیاء الاسلام ہائی اسکول کے انتظامیہ کی ستائش کی۔ جناب مسعود عبدالقادر نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ کسی بھی طالب علم کے کیریئر کے سنوارنے میں تین عوامل اہم رول ادا کرتے ہیں‘ خود طالب علم، اساتذہ اور والدین۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں کو مشورہ دیا کہ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہ برتیں۔ ان کی لاپرواہی کی وجہ سے نئی نسل موبائل اور سوشیل میڈیا کے اس قدر عادی ہوچکی ہے کہ اس سے ان کی صلاحیتیں زنگ آلود ہوگئی ہیں۔ اور اندیشہ ہے کہ ان کے ذہن آلودہ ہوجائیں۔ جناب جمیل احمد قریشی پرنسپل نے اسکول کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ضیاء الاسلام ہائی اسکول کے فارغ التحصیل طلبہ آج دنیا کے گوشے گوشے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اہم عہدوں پر فائز ہیں ان میں سے ایک سابق طالب علم ڈاکٹر احتشام الحسن مجاہد بھی ہیں جو سیاست سے وابستہ ہیں۔ اس موقع پر اسکول کے مایہ ناز طالب علم ابراہیم کو تہنیت پیش کی گئی۔ اسکول کے طلباء و طالبات نے اپنی تقریری، ثقافتی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا۔ محترمہ عذرا آفرین نے شکریہ ادا کیا۔