اردو یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سمینار کا اختتام ، گورنر کیرالا عارف محمد خان کا خطاب
حیدرآباد، 31؍ اکتوبر (پریس نوٹ) قرآن میں انسان کو دنیا میں موجود چیزوں پر غور کرنے کا حکم ہے۔ انسان کو نہ صرف تجربہ کرنے کا حکم ہے بلکہ دوسروں کے تجربوں سے بھی استفادہ کا حکم ہے۔ جب انسان تحقیق اور تقلید دونوں کی راہوں پر چلتا ہے تو دنیا ترقی کرتی ہے یعنی یہی ترقی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن نے برائی کا جواب بھی بھلائی سے دینے کا حکم دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عارف محمد خان، گورنر کیرالا نے بحیثیت مہمانِ خصوصی آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں قومی سمینار کے اختتامی اجلاس میں کیا۔ مجلسِ فخر بحرین برائے فروغِ اردو اور آئیڈیا کمیونکیشنس اور اردو یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ سمینار بعنوان ’’پنڈت ہری چند اختر، اردو شاعری اور صحافت کے آئینے میں‘‘ کا آج اختتام عمل میں آیا۔ جناب عارف محمد خان نے کہا کہ کوئی انسان غیر معمولی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ابوالکلام آزاد کا حوالہ دیا کہ جب وہ بالکل نوجوان تھے اس وقت انہوں نے ایک پروگرام میں ڈپٹی نذیر احمد کے روبرو ایک بہترین تقریر کی جس پر ڈپٹی نذیر احمد نے سمجھا کہ وہ کسی سے لکھوا لائے ہیں۔ اس پر مولانا آزاد نے اگلے دن ان کے دیئے ہوئے موضوع پر اتنی ہی بہترین تقریر کی۔ حالانکہ مولانا بھی ایک انسان ہی تھے۔ اسی لیے تمام طلبہ اگر کوشش کریں تو وہ بھی اپنے آپ کو منواسکتے ہیں۔ انہوں نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عبدالحق نے اردو کے لیے دو لوگوں کی خدمات کو گراں قدر قرار دیا تھا، ایک غالب کی اور دوسری لتا منگیشکر کی۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارتی تقریر میں کہا کہ اردو کا مقصد سبھی کو جوڑنا ہے اور ابتداء ہی سے اس زبان نے یہی کیا ہے۔ انہوں نے اردو کو مختلف علوم سے جوڑنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر حیدرآباد سے جاری روزناموں سیاست، منصف اور اعتماد اردو میں دیگر علوم کے معیاری مضامین کے سپلیمنٹ شائع کرتے ہیں جبکہ دیگر علاقوں کے اردو اخبارات میں یہ کم نظر آتا ہے۔ جناب شکیل احمد صبرحدی، بانی فخر بحرین، نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ فخر بحرین برائے فروغ اردو اور آئیڈیا کمیونکیشنس نے مل کر گذشتہ چھ سال سے جامعہ ہمدرد، الہ آباد یونیورسٹی، ممبئی یونیورسٹی جیسے اداروں میں شہریار، مجروح سلطان پوری، چکبست، آنند نرائن ملا جیسی شخصیتوں پر سمینار کیے ہیں۔ جناب آصف اعظمی، ڈائرکٹر آئیڈیا کمیونکیشنس نے کارروائی چلائی ۔ اس سلسلے میں یہاں اُردو کے لیے جناب زاہد علی خان، ایڈیٹر سیاست، خدمت خلق کے لیے جناب کریم عرفان، بانی اقراء سوسائٹی اور پروفیسر ارونداکشن، سابق پرو وائس چانسلر، مہاتما گاندھی انتر راشٹریہ ہندی یونیورسٹی، کو مذہبی رواداری پر اپنے قلم کے استعمال کے لیے اعزازات دیئے گئے۔