ڈی جی پی اور کمشنر کو وزیر داخلہ محمود علی کی ہدایت،بلدی انتخابات کے بعد مسجد یکخانہ کی تعمیر کا تیقن
حیدرآباد۔29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے ڈائرکٹر جنرل پولیس اور کمشنر پولیس کو ہدایت دی ہے کہ عید الاضحیٰ کے سلسلہ میں جانوروں کی منتقلی کو روکنے شرپسند عناصر کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے سخت کارروائی کریں۔ مسلم تنظیموں کی جانب سے اس سلسلہ میں نمائندگی پر وزیر داخلہ نے آج ڈائرکٹر جنرل پولیس ایم مہیندر ریڈی اور کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار سے فون پر ربط قائم کیا اور کہا کہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں اشرار کی جانب سے جانوروں کی منتقلی کو روکنے اور جبراً وصولی کی شکایات ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے دیگر ابنائے وطن کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کی قربانی سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم قائدین اور علماء میں بھی گائے کی قربانی سے گریز کی اپیل کی جس پر مسلمان کاربند رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گاؤ رکھشا کے نام پر فرقہ پرست عناصر دوسرے بڑے جانوروں کی منتقلی کو روکنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے مخصوص ٹولیاں سرگرم ہیں تاکہ تاجروں سے رقومات وصول کی جائیں۔ وزیر داخلہ نے پولیس عہدیداروں سے کہا کہ دیگر جانوروں کی منتقلی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور امن و ضبط کی صورتحال کو بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ تلنگانہ حکومت فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تہواروں اور عید کے پرامن انعقاد کے حق میں ہے اور گزشتہ چھ برسوں میں تمام مذاہب کے تہوار پرامن اور بھائی چارہ کے ساتھ منائے جارہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت عنبرپیٹ میں شہید کردہ مسجد یکخانہ کو میونسپل انتخابات کے بعد اسی جگہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر نے چیف سکریٹری سے بات چیت کی ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں کے انتخابات سے قبل ماحول بگاڑننے کا موقع نہ دینے کیلئے تعمیر کا کام الیکشن کے بعد کیا جائے گا۔ فلائی اوور اور مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں نیا پلان تیار کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت کسی بھی مذہب کی عبادتگاہ کو نقصان پہنچانے کے حق میں نہیں ہے اور تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کرتی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سکریٹریٹ میں واقع مسجدِ معتمدی زمین سے نچلے علاقہ میں واقع ہے۔ لہذا حکومت اسے سطح زمین کے مطابق کرنا چاہتی ہے۔ علمائے کرام سے مشورہ کرتے ہوئے مسجد کو اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سکریٹریٹ کا وہ حصہ جہاں مسجد واقع ہے، وہ نچلا علاقہ ہے اور حکومت نئے دفاتر کی تعمیر کے ساتھ مسجد کو بھی اوپری حصہ میں تعمیرکرنا چاہتی ہے۔