قرنطینہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منہا

   

اعلیٰ عہدیداروں کو رپورٹ کرنے کے باوجود ملازمین کے ساتھ معاندانہ رویہ

حیدرآباد۔ سرکاری دفاتر میں خدمات انجام دینے والے ملازمین جو کورونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں وہ گھر سے کام نہیں کرپار ہے ہیں اور جن ملازمین کو کورونا وائرس کی توثیق ہورہی ہے اور وہ قرنطینہ اختیار کرتے ہیں تو ان کی تنخواہیں منہاء کی جانے لگی ہے اور ان کے قرنطینہ کی مہلت کورخصت میں شمار کیا جانے لگا ہے جو کہ سرکاری ملازمین کے ساتھ حد درجہ ناانصافی کے مترادف ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین جو کہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور گھریلو قرنطینہ میں رہنے کے سبب دفتر حاضر نہیں ہوپائے ہیں ان کی تنخواہوں کو کاٹتے ہوئے مشاہرہ جاری کیا گیا ہے جس کے سبب ملازمین میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے اور اسی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ملازمین بھی جو کہ کورونا وائرس کے سبب قرنطینہ میں تھے اور اس صورتحال سے اپنے عہدیداروں کو واقف کروا چکے تھے اور اپنی کورونا وائرس کی رپورٹ بھی روانہ کرچکے تھے لیکن ا س کے باوجود ان کی مکمل تنخواہ ادا نہیں کی گئی ۔عہدیداروں نے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو احکامات جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق عمل کرتے ہوئے یہ کاروائی کی گئی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے تمام محکمہ جات اور ان کے تحت خدمات انجام دینے والے شعبہ جات کو احکام جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم قرنطینہ کے سبب دفتر حاضر نہیں ہوتا ہے تو فوری اثر کے ساتھ اس کی تنخواہ میں تخفیف کی جائے اور بعد ازاں اگر ملازمین کی جانب سے تمام تفصیلات پیش کی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں ان کی روکی گئی تنخواہ کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں۔ سرکاری ملازمین نے بتایا کہ ان کے محکمہ جات اور حکومت کی جانب سے ایسا کئے جانے کی صورت میں وہ ملازمین جو کہ علامات سے عاری ہیں لیکن کورونا وائرس سے متاثر ہیں اپنی مکمل تنخواہ کے حصول کے لئے اگر دفتر آنے لگتے ہیں تو وہ دوسروں کو متاثر کرنے لگ جائیں گے اسی لئے ریاستی حکومت کو اس طرح کے احکامات کی اجرائی سے گریز کرنے کے علاوہ عہدیداروں کو ہدایات جاری کرنی چاہئے کہ اگر کوئی ملازم کورونا وائرس کا شکار ہوتا ہے اور اس کے پاس آرٹی پی سی آر یا ریاپڈ اینٹی جین کی رپورٹ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اس سے مزید کوئی رخصت کی درخواست طلب کرنے کے بجائے انہیں قرنطینہ میں چلے جانے کا اختیار دینا چاہئے اور دوران قرنطینہ ناسازیٔ صحت کی صورت میں انہیں بہتر سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے چاہئے لیکن حکومت اس کے برعکس اقدامات کر رہی ہے۔