قصور صرف ہندوستانی فوج کا ہے : چین

   

بیجنگ ۔ چین نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندستان کے ساتھ فوجی اور سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے، ہم کسی بھی طرح کے معاملے سے نمٹنے میں اہل ہیں۔بیجنگ۔ ہندستانی فوجیوں پر پندرہ جون کو لوہے کی چھڑوں اور کنٹیلی تار لگے ڈنڈوں سے حملہ کرنے سے متعلق سوالوں پر چین نے ہندستانی فوج کو قصوروار بتایا ہے۔ چین نے نہ صرف اس جھڑپ سے متعلق سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا بلکہ گلوان ندی پر بنائے جا رہے ڈیم( پشتہ) سے جڑا ایک سوال بھی ٹال دیا۔ گزشتہ روز وزیر اعظم ہند نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئی بھی پوسٹ یا علاقہ چین کے حوالے نہیں کیا گیا لیکن چینی حکومت کا بیان اس سے بالکل مختلف حقیقت بیان کرتا ہے۔ کیا ہندوستان پس پردہ گلوان کی وادی چین کو ’سونپ‘ چکا ہے؟ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ وادی گلوان سے متعلق وضاحت کریں کہ وہ اس وقت کس کے کنٹرول میں ہے؟ گزشتہ روز ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کوئی علاقہ یا فوجی پوسٹ چین کے حوالے نہیں کیے گئے۔ وزیر اعظم مودی کے اس خطاب کے بعد چینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پوری وادی گلوان وادی چین کے دائرہ اختیار میں ہے۔بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان ڑاؤ لیجیان کا کہنا تھا، ”گلوان کی وادی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ چینی علاقے کے اندر واقع ہے۔ چینی سرحدی فورسز گزشتہ کئی برسوں سے وہاں گشت کر رہی ہیں۔‘‘ ترجمان کا مزید کہنا تھا، ”پوری وادی گلوان ہماری ہے۔‘‘