قطرنے ورلڈ کپ کیلئے رشوت کے الزامات مستردکردئے

   

دوحہ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) قطر میں فیفا ورلڈ کپ کے منتظمین نے اپنے ایک بیان میں امریکہ میں عدالتی دستاویزات میں قطرمیں سال 2022 میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کیلئے رشوت کے الزامات کی تردید کی ہے ۔واضح رہے امریکہ کی عدالت میں دائر ایک فرد جرم میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ قطر نے بولی کے عمل میں فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدیداروں کو اپنے ووٹوں کے لئے رشوت دی ہے ۔ قطر کی سپریم کمیٹی برائے ڈلیوری اینڈ لیگیسی (ایس سی) نے واضح کیا کہ وہ ایک الگ معاملے کا حصہ ہیں ، جس کا موضوع سال 2018 اور سال 2022 مین منعقد ہونے والے فیفا عالمی کپ کی میزبانی کیلئے بولی لگانے کا عمل نہیں ہے ۔ کئی سال کے جھوٹے دعوؤں کے باوجود ایسا ثبوت کبھی پیش نہیں کیا گیا کہ قطر نے فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کیلئے غیر اخلاقی طور پر یا اس کے ذریعہ فیفا کے بولی لگانے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر کے حقوق حاصل کیے تھے ۔ سپریم کمیٹی نے کہا ہے کہ اس نے سال 2018 اورسال 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کیلئے بولی لگانے کے عمل میں تمام قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا اور اس کے برخلاف ہر دعوی بے بنیاد ہے اور اس کا سخت مقابلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب امریکہ کی ایک عدالت میں دائر کی جانے والی ایک فرد جرم کا دعوی ہے کہ برازیلین فٹ بال کنفیڈریشن (سی بی ایف) کے سابق صدر ریکارڈو ٹیکسیرا سال2022 ورلڈکپ کی میزبانی کے لئے قطر کی جانب سے رشوت قبول کرنے والے متعدد عہدیداروں میں شامل تھے ۔واضح رہے کہ جب سے قطرکو ورلڈ کپ کی میزبانی ملی ہے تب سے ہی اس پر میزبانی کے حصول میں رشوت کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں۔