قطری عوام حکومت کی امریکی نوازپالیسیوں کے مخالف

   

دوحہ۔ حالیہ سروے کے مطابق قطر کے زیادہ تر شہری حالیہ امریکی اقدامات کے خلاف ہیں۔قطر کا شمار امریکہ کے اتحادی ممالک میں ہوتا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی مرکز قائم ہے اور امریکی فوجی سازوسامان پر قطر اربوں ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ تاہم حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر کے عوام کی سوچ اس کی حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کے برعکس ہے۔ سروے کے مطابق قطرکے عوام امریکہ کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور مشرق وسطیٰ میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں کردارکی حمایت نہیں کرتے۔عرب نیوز اور یوگووکے تحت کئے گئے سروے میں 18 عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے 1960 افراد کے سامنے مختلف سوالات رکھے گئے جن میں قطر کے شہری بھی شامل تھے۔ مجموعی طور پر56 فیصد جواب دہندگان کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ بنے ہیں جبکہ قطر سے 79 فیصد جواب دہندگان نے صدر ٹرمپ کو رکاوٹ قرار دیا۔سروے میں حصہ لینے والے قطری شہریوں نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کی بھی مخالفت کی ہے۔ 2017 میں عرب ممالک کے قطر کے ساتھ بائیکاٹ کے بعد سے قطر نے امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی غرض سے بیشتر اقدامات کئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سفارتی سطح پر تنہا ہونے سے بچنا ہے۔ بائیکاٹ کے بعد سے قطر نے ایران کے ساتھ رابطے مختلف شعبوں میں بڑھا دیے ہیں۔