دوحہ ۔ 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) قطر کی وزارت محنت نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک غیر ملکی کارکنوں کیلئے اسپانسرشپ سسٹم یعنی ’کفیل‘ کے نظام کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔قطر کے وزیر محنت یوسف محمد العثمان فخرو نے کہا ہیکہ ان کا ملک 2022 سے کم سے کم اجرت کا نظام بھی شروع کرے گا۔واضح رہے کہ اسپانسر شپ‘ کے قانون کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو آجر کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے یا کام تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں کفیل کے نظام پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے ڈائریکٹر نے اسپانسر شپ کے نظام کو ’جدید غلامی‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے قطر کے حالیہ اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔واضح رہیکہ قطر نے 2022 میں منعقد ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ کی میزبانی جیتنے کے بعد سے ملک کے لیبر قوانین میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبے شروع کیے ہیں، جن کیلئے غیر ملکی کارکنوں کو بڑی تعداد میں قطر لانے کی ضرورت ہے۔