افغانستان میں بین الاقوامی رسائی میں اضافہ کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال، طالبان کی عدم شرکت
دوحہ :افغانستان کیلئے مختلف ملکوں کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس قطر میں منعقد ہوا جس میں افغانستان میں بین الاقوامی شمولیت بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ برسراقتدار طالبان نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کی صدارت میں افغانستان کیلئے مختلف ملکوں کے خصوصی نمائندوں کا دو روزہ اجلاس قطر میں اتوار کے روز شروع ہوا۔ اجلاس کا مقصد اس بات پر تبادلہ خیال کرنا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی رسائی بڑھانے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ طالبان نے بعض شرائط پور ی نہ کیے جانے کی بنا پر اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ طالبان چاہتے تھے کہ انہیں افغانستان کے واحد سرکاری نمائندے کے طورپر تسلیم کیا جائے اور تمام مسائل پر اقوام متحدہ اعلیٰ سطح پر ان کے ساتھ بات کرے۔ طالبان کا ایک اور مطالبہ تھا کہ اس کانفرنس میں اس گروپ پر کوئی بھی تنقید نہ کرے اور نہ ہی اس بات پر نکتہ چینی کی جائے گی کہ اگست 2021ء میں اقتدار میں آنے کے بعد وہ ملک کو کیسے چلا رہے ہیں۔ تاہم میزبان کی جانب سے انہیں اس بات کی بھی ضمانت نہیں دی گئی۔ اس صورتحال میں کانفرنس کی کامیابی کے امکانات شروع سے ہی محدود نظر آ رہے تھے۔ اجلاس میں خواتین اور سیول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی جبکہ انسانی حقوق کے گروپوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ تمام بات چیت میں خواتین کے حقوق کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نارویجیئن رفیوجی کونسل کے سکریٹری جنرل جان ایگلینڈ نے ایکس پر اتوار کے روز لکھا کہ مایوس کن بات ہے کہ طالبان نے دوحہ میں افغانستان کیلئے خصوصی ایلچیوں کی میٹنگ میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔
