ایرانی سفارتکارو ں کو24گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم
دوحہ، 19 مارچ (یو این آئی) قطر نے ایرانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی سمیت سیکیورٹی عملے کو ‘ناپسندیدہ ”قرار دے کر چوبیس گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق قطر نے اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی اور حالیہ حملوں کے جواب میں ایران کے خلاف سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی اور سیکیورٹی عملے کو ‘ناپسندیدہ’ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے ۔ قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی ملٹری اتاشی اور ان کے سیکیورٹی عملے کو 24 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے جس کے اندر انہیں لازمی طور پر قطر سے نکلنا ہوگا۔ یہ فیصلہ قطر کے اہم صنعتی مرکز ‘راس لفان’ پر حالیہ میزائل حملوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کیا گیا ہے ۔ قطر کا موقف ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے ، اور قطر اپنی سلامتی و قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔
ایرانی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ خطرناک :قطر
دوحہ، 19 مارچ (یو این آئی) قطر نے ایران کی توانائی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی ساؤتھ پارس فیلڈ کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو قطر کے نارتھ فیلڈ کی توسیع ہے ۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملہ عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران اور قطر کی مشترکہ پارس گیس فیلڈ پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے مکمل گریز کرنے پر زور دیا ہے ۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کیا ہے جس سے 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی۔ دنیا کی سب سے بڑی ساؤتھ پارس فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے ، ایرانی صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے صرف پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب بنیں گے ۔