ورنگل کی مندر رامپا کو منظوری ، حکومت تلنگانہ اور سیاسی قائدین کی لاپرواہی اہم وجہ
حیدرآباد۔19اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے قلعہ گولکنڈہ اور چارمینار کو یونیسکو کے عالمی تہذیبی ورثہ میں شامل کروانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی اور گذشتہ ماہ ضلع ورنگل میں واقع رامپا مندر کو عالمی تہذیبی و ثقافتی ورثہ کی فہرست میں جگہ حاصل ہوگئی تاہم اب بھی چارمینار یا قلعہ گولکنڈہ کو اس فہرست میں جگہ حاصل ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں ۔ تاریخی چارمینار جو کہ شہر حیدرآباد کے نام کے ساتھ ہی دنیا بھر میں نام لیا جاتا ہے اس چارمینار کو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کروانے میں حکومت ناکام ہورہی ہے یا شہریان حیدرآباد ناکام ہورہے ہیں اس بات کا جائزہ لیا جانا بے حد ضروری ہے کیونکہ چارمینار کو اور اس کے آس پاس کے ماحول کو عالمی معیار کے تہذیبی ورثہ کے قابل بنایا جانا ضروری ہے لیکن چارمینار کے اطراف AMASR ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی تعمیرات پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ پولیس انتظامیہ ‘ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے اختیار کی جانے والی خاموشی تاریخی چارمینار کی تباہی اور اسے عالمی تہذیبی ورثہ میں شامل کروانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ چارمینار کے اطراف غیر مجاز ڈھانچوں کی تعمیر کو حاصل سیاسی سرپرستی مجموعی اعتبار سے شہر حیدرآباد بالخصوص چارمینار کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں۔ چارمینار کے اطراف و اکناف اندرون 200میٹرکے حدود میں جاری تعمیرات کو محکمہ جات کی جانب سے اور ان علاقوں کی نمائندگی کرنے والوں کی جانب سے روکنے کے بجائے ان تعمیرات کی نگرانی کی جانے لگی ہے جو کہ چارمینار کی خوبصورتی اور علاقہ کی اہمیت کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ رامپا مندر کو عالمی تہذیبی ورثہ میں جگہ حاصل ہونے کے فوری بعد اطراف کی اراضیات کی قیمتوں میں 70 گنا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور مندر کے اطراف ہی نہیں بلکہ مندر تک پہنچنے والے راستوں پر موجود جائیدادوں کی قیمتوں میں بھی زبردست اچھال ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ چارمینار جو کہ تاریخی اہمیت کی حامل عمارت ہے اس کے باوجود اس عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں سیاسی قائدین ‘ مقامی عوام‘ تنظیموں ‘ اداروں کے علاوہ سرکاری محکمہ جات کی عدم دلچسپی دراصل تاریخی چارمینار کو یونیسکو کے تہذیبی ورثہ میں چارمینار کو شامل کروانے میں ناکامی نہیں ہے بلکہ پرانے شہر کو ترقی سے محروم رکھنے کی کوشش ہے کیونکہ اگر تاریخی چارمینار یونیسکو کے تہذیبی ورثہ میں شامل ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں چارمینار کے اطراف و اکناف کے علاقوں کے علاوہ چارمینار سے شہرحیدرآباد میں موجود دیگر تاریخی و سیاحتی عمارتوں تک پہنچنے والی سڑکوں پر جائیدادوں کی قیمتو ںمیں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ ان علاقوں کی ترقی کی رفتار تیز ہوجائے گی اور ان علاقو ںمیں سیاحوں کی آمد کے سبب تجارتی سرگرمیوں میں بھی خوب اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔M
