جی ایچ ایم سی سے شاہ حاتم تالاب سے پانی کی نکاسی کے لیے کی تیاری
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی ) کی جانب سے قلعہ گولکنڈہ میں اس کے شمالی حصہ میں قلعہ کی خندق کو کاٹنے کے لیے ارتھ موؤر کا استعمال کیا گیا ۔ اس کام کی نگرانی کرنے والے جی ایچ ایم سی کے ایک ملازم نے کہا کہ ’ ہم شاہ حاتم تالاب سے پانی کی نکاسی کے لیے ایک نالہ بنا رہے ہیں ۔ قدیم نالہ بند ہوگیا ہے جس کی وجہ دوسری جانب مکانات میں پانی داخل ہو کر سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔ پیر کو اس جگہ سے ارتھو موؤر کو ہٹانے کے بعد خندق کی دیوار کے بڑے تکڑوں کو پھیلایا گیا ۔ قلعہ گولکنڈہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے کنٹرول میں قومی اعتبار سے ایک محفوظ یادگار عمارت ہے اور اس کے 100 میٹر نصف قطر کے اندر کسی تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے ۔ اس کام کی نگرانی کرنے والے جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار ثنا الدین نے کہا کہ انسانی پہلو سے غور کیجئے اگر یہ کام نہیں کیا گیا تو کئی مکانات سیلاب کی زد میں ہوں گے ۔ انہوں نے اے ایس آئی کا جاری نوآبجکشن سرٹیفیکٹ دکھانے کا وعدہ کیا لیکن دکھایا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم قدیم نالے کو بحال کرنے کے لیے کیچڑ وغیرہ کی صفائی کا کام کررہے ہیں ۔ لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ آخر ایک بند پانی کے نالہ میں کیچڑ وغیرہ کی صفائی کے لیے ایک ارتھ موؤر کی کیوں ضرورت پڑی ۔ اے ایس آئی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے مارچ میں دہلی سے این او سی حاصل کیا ہے ۔ مجھے ہمارے دستاویزات کی جانچ کرنی ہوگی ‘ ۔ قدیم سلوس گیٹ کی سائٹ سے تقریبا 100 میٹرس پر جی ایچ ایم سی نے شاہ حاتم تالاب سے پانی کی نکاسی کے لیے پائپ لائن ڈالتے ہوئے ایک اور مداخلت کی اور اب اس تالاب سے پانی نیا قلعہ میں جارہا ہے جس کی وجہ بدبو ہورہی ہے ۔ اس علاقہ کے ایک ساکن نے اس تالاب کی دوسری جانب واقع ان کا مکان بتاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ نالہ نہیں بنایا گیا تو ہمارے مکانات سیلاب کی زد میں آجائیں گے ۔ ہمارا مسئلہ 2000 کے بعد بہت خراب ہوگیا ۔ ہر سال ہمارے مکانات میں پانی داخل ہو کر سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے بعض مقامات پر پانی سکنڈ فلور کی بلندی تک آجاتا ہے ۔ ہر مانسون ندیم کالونی ، وراثت نگر ، راگھوا کالونی ، ولی کالونی اور دوسرے علاقوں کے لیے ایک آزمائش ہوتا ہے ۔ جو حال میں شاہ حاتم تالاب کے کنارے آباد ہوئے ہیں ۔ سڑک سے متصل زمین کے ایک بڑے حصہ پر دوبارہ دعویٰ کرتے ہوئے حیدرآباد گولف کلب کی جانب اس کی گاڑیوں کی پارکنگ کرنے کے لیے سے استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہ تالاب سکڑ کر تقریبا نصف ہوگیا ہے ۔ 70.8 ایکر سے اس کا رقبہ 2014 میں 40 ایکر تک گھٹ گیا ۔ یہاں کئی تعمیرات فل ٹینک لیول کے اندر کی گئی ہیں ۔ یہ وہ تعمیرات ہیں جہاں جب کبھی شدید بارش ہو سیلاب کی صورتحال پیدا ہوتی ہے ۔۔