قلعہ گولکنڈہ کی فصیل سے متصل قبضہ جات عوامی مسائل میں بے تحاشہ اضافہ سے ناراضگی

   

حیدرآباد۔25۔اکٹوبر(سیاست نیوز) گولکنڈہ کے فصیل کے اندرونی حصہ میں مقیم شہریوں کے مسائل میں ہونے والے اضافہ کو حل نہ کئے جانے کے سبب اندرون قلعہ رہنے والوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور فصیل سے متصل جاری قبضوں پر بھی عوام میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے۔حلقہ اسمبلی کاروان میں گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے قلعہ گولکنڈہ کے علاقہ میں جاری ترقیاتی کاموں کو مکمل نہ کئے جانے کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور قلعہ کے کسی بھی دروازہ سے باہر نکلنے کا راستہ آسان نہیں رہا ۔قلعہ گولکنڈہ جو کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت درج رجسٹرڈ آثار قدیمہ میں شامل ہے اس قدیم قلعہ کی تفریح اور سیاحت کے لئے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں عوام اس علاقہ میں پہنچتے ہیں لیکن اس علاقہ کے مکینوں کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کے لئے کسی بھی طرح کی سنجیدہ اقدامات نہ کئے جانے کے نتیجہ میں عوام میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ گولکنڈہ کے اندرون حصار موجودمحلہ جات میں رہنے والوں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ حلقہ اسمبلی کاروان میں موجود ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جاچکا ہے لیکن ان کی تکمیل کے لئے برسوں گذرنے کے باوجود ان کاموں کی عدم تکمیل کے سبب سڑکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے اور بیشتر علاقوں میں اب تک سڑک کی کھدوائی کو بند کرنے کے کام بھی انجام نہ دیئے جانے کے سبب گڑھے جوں کے توں ہیں جس کے نتیجہ میں علاقہ میں گندگی ‘ بدبو اور تعفن پایا جانے لگا ہے۔مقامی عوام نے بتایا کہ مختلف محلہ جات میں سیوریج اور آبرسانی کے کاموں کا آغاز کیا گیا اور یہ کام کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک جوں کے توں ہیں جس سے اس علاقہ کو نظرانداز کئے جانے کی توثیق ہوتی ہے۔مکینوں کا کہناہے کہ پائپ لائن کی تنصیب اور نئی سڑکوں کی تعمیر کے سلسلہ میں کئے جانے والے تعمیری و ترقیاتی کاموں کی دیگر علاقوں میں جس رفتار سے تکمیل ہوتی ہے ان علاقوں میں اس رفتار سے کاموں کو مکمل کرنے کے بجائے مسلسل شکایات کے باوجود اسے نظرانداز کیا جانے لگا ہے جو کہ علاقہ کے عوام کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ گولکنڈہ علاقہ حلقہ اسمبلی کاروان کی گنجان مسلم آبادی والا علاقہ ہے۔