حیدرآباد۔25 ستمبر (سیاست نیوز) قلعہ گولکنڈہ کو ویسے کئی ایک دروازے موجود ہیں جن میں کچھ دروازوں کے ساتھ تاریخی داستانیں وابستہ ہیں جن میں ایک دروازہ فتح دروازہ ہے لیکن یہ دروازہ عوام کی جانب سے کچرا ڈالنے اور ارباب مجاز کی جانب سے اس کی صفائی نہ کرنے کی وجہ سے تقریباً بند ہوگیا تھا لیکن اب اس کی صفائی ہوئی ہے۔ حیدرآباد ہیریٹیج ٹرسٹ نے فتح دروازہ کی صفائی اور اس راستے کو عوام کیلئے ایسے فراہم کرنا ہے جیسا کہ تاریخ کی کتابوں میں اس کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ وہی تاریخی دروازہ ہے جہاں 8 ماہ کے ناکام محاصرہ کے بعد مغل بادشاہ اورنگ زیب گولکنڈہ قلعہ کو فتح کرنے کیلئے داخل ہوئے تھے۔ فتح دروازہ صاف ہونے سے پہلے یہ علاقہ کچرا پھینکنے والوں اور لا پرواہ افراد کی وجہ سے بڑے کچرے کے انبار میں تبدیل ہوگیا تھا۔ شمال کی طرف جو کھائی ہے وہ انسانی گندگیوں اور گھریلو کچرے سے بھری پڑی تھی۔ فتح دروازہ کے قلعے کی دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا راستہ بھی موجود ہے لیکن جھاڑیوں کی بہت زیادہ نشوونما کے سبب یہ ناقابل استعمال بنایا گیا تھا۔اس اہم اور تاریخی راستے کی صفائی کے ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے حیدرآباد ہیریٹیج ٹرسٹ کے محمد شجاعت علی نے کہا ہے کہ اس راستے کی صفائی سے نہ صرف تاریخی دروازہ کی عظمت رفتابحال ہوگی بلکہ اس راستے کو عوام کیلئے کھولنے سے وہ کم وقت میں قلعہ تک رسائی حاصل بھی کرسکیں گے۔ شجاعت علی نے مزیدکہا کہ تاریخی مقامات اور یادرگاروں کی صفائی کا کام گزشتہ ہفتہ نوبت پہاڑسے شروع کیا گیا اور اس کے بہتر نتائج نے ہمیں اورہمت دی ہے جسکے بعد ہم نے فتح دروازے کا رخ کیا ہے۔