یمن کی لڑائی میں 111 حکومتی اہلکار اور باغی ہلاک، بنگلہ دیش میں نو مسلم عمر فرخ شہید
قندوز : افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز کے دارالحکومت قندوز شہر میں جھڑپوں کے دوران کم از کم 24 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے ۔ افغانستان کی سپیشل آپریشن فورسز سے وابستہ خالد امیری نے بتایا کہ افغان اسپیشل آپریشن فورسز نے دارالحکومت کابل سے 250 کلومیٹر شمال میں واقع شہر کی آبادیوں سہ درک ، عنایت اور زاخیل میں رات کے وقت چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے 16 عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 10 دیگر کو زخمی کر دیا ہے۔حالیہ دنوں کے دوران قندوز شہر میں اکا دکا جھڑپیں جاری ہیں کیونکہ طالبان عسکریت پسند شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوج کے ایک ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ جمعہ کے روز رات گئے قندوز شہر میں متعدد مقامات پر افغان قومی فوج کے دستوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں 8 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 5 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ صنعاء سے موصولہ اطلاع کے بموجب یمن کے علاقے مارب پر قبضے کے لیے گزشتہ تین روز سے جاری لڑائی میں کم از کم 111 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے قبضے کے لئے نئے حملے شروع کردیئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 29حکومتی سکیورٹی اہلکار اور تقریبا 82حکومت مخالف جنگجو شامل ہیں۔ یمن کی چھ سالہ جنگ میں ہزاروں یمنی شہری بھی مارے جا چکے ہیں جبکہ کئی ملین کو قحط سالی کا سامنا ہے۔ یمن کے 24ملین شہریوں میں سے 80فیصد کا انحصار انسانی ہمدردی پر ملنے والی امداد پر ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے خلاف سعودی عسکری اتحاد برسرپیکار ہے۔بنگلہ دیش سے موصولہ اطلاع کے بموجب بنگلہ دیش میں ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والے شخص کو شہید کردیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق عمر فرخ چٹاگانگ کے ہندو قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ عمر فرخ کے قتل کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور اس کیس میں مذہب کے نام پر قتل کیے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں مقتول کے قبیلے کے افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں پہلے بھی ہندو مسلم فسادات ہوچکے ہیں اور ہندو قبیلے کے لوگ اب مسلح ہوکر علاقے کے مسلمانوں کو ڈرادھمکارہے ہیں۔