قومیں حوصلوں سے ترقی کرتی ہیں:مولانا مجددی

   

مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں سرگرم رول ادا کرنا چاہئے، جے پور کے اسکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب
نئی ہلی/جے پور: مسلمانوں سے جوش و خروش، عزم اور حوصلوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں سرگرم رول ادا کرنے اور اپنے اندر حوصلہ پیدا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اورجامعۃالہدایہ جے پور کے سربراہ مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ قومیں حوصلوں سے ترقی کے منازل طے کرتی ہیں۔یہ بات انہوں نے امام ربانی سینئر سیکنڈری اسکول جے پور کی شاندار کارکردگی پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ واضح رہے کہ امام ربانی سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کے بارہویں کے بچوں نے بہت ہی شاندار نتائج کامظاہرہ کیا ہے ۔ علماغوری نے سائنس میں 95.80اور صوفیہ قریشی نے 93.80، آفرین مرزا نے 93.20، بشری فریشی نے 88.20اور تہذیب نے 88 فیصد نمبر لاکر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اسی طرح کامرس میں حفظ الرحیم نے 85.80، محمد شہزان نے 84.20،عروج نے 84.20، علینا حیات 81.40اور کلثوم نے 80.40 نمبرات حاصل کئے ۔ اسی طرح آرٹس میں بھی یسری ناز نے 88.20،حورین مصوری88.20، رمشہ صالحہ 83.20، اقرا اختر 82 فیصد نمبر حاصل کئے ۔بہتر کارکردگی یہ ہے کہ اسکول نے صد فیصد نتائج حاصل کئے ہیں اور 70 فیصد طلبہ اول نمبر سے جب کہ 30فیصد دوم درجے سے پاس ہوئے ہیں۔ عبدالرحیم ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیرمین اور امام ربانی گروپ آف اسکول کے سربراہ مولانا مجددی نے اگلے سیشن سے امام ربانی کالج بنانے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ حوصلہ مند قوم کسی رکاوٹ کا پروا نہیں کرتی بلکہ ہر رکاوٹ اور پریشانی کو حوصلوں سے دور کرتی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ وہی قوم مہذب اور ترقی یافتہ ہوتی ہیں جو اپنی تہذیب و شعار کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔مسلمانوں کے شاندارماضی اورعلمی تابناکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وہ تھا جب برطانیہ شاہ جارج ثانی اپنی بچوں کی تعلیم وتربیت کیلئے مسلمانوں کے ادارے میں بھیجتے تھے اور مسلمانوں کے اداروں میں تعلیم دلانے کے خواہش مند ہوتے تھے لیکن مسلمانوں میں تعلیمی زوال کا یہ عالم ہے کہ ان کے پاس اعلی معیار کا کوئی ادارہ نہیں ہے اوراپنے بچوں کی تعلیم کے لئے غیروں کے ادارے میں بھیجنے پرمجبور ہیں جس کی وجہ سے کئی طرح کی روح فرسا خبریں سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے موجودہ رویہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم مغرب اور یوروپ کی غلامی کرناباعث فخر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علمی احتساب کئے بغیرہم کسی میدان میں ترقی نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے اسکول میں بہترین نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے درمیان 42ہزار روپے کے انعامات بھی تقسیم کئے ۔