اندرون دو یوم موقف کا اظہار، ہم خیال جماعتوں اور چیف منسٹرس سے مشاورت کا تیقن، مسلم رہنمائوں کی اسد اویسی کی قیادت میں تین گھنٹے طویل ملاقات
نظام آباد میں کل احتجاجی جلسہ میں وزراء کو شرکت کی ہدایت
حیدرآباد، 25 ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے آج مسلم قائدین اور مذہبی شخصیتوں کو تیقن دیا کہ تلنگانہ میں قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے بارے میں حکومت اور پارٹی کے موقف کا اندرون دو یوم اعلان کریںگے۔ انہوں نے این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس) اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے مسئلہ پر کانگریس کے بشمول دیگر ہم خیال علاقائی جماعتوں کے چیف منسٹرس سے بات چیت کرنے اور جنوری کے اواخر میں حیدرآباد میں بڑے جلسہ عام کے انعقاد کا یقین دلایا۔ شہر کی مختلف مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے 35 سے زیادہ قائدین نے آج صدر مجلس اسد اویسی کی قیادت میں پرگتی بھون پہنچ کر چیف منسٹر سے ملاقات کی۔ چیف منسٹر جو انتہائی تجربہ کار سیاستداں اور مشکل حالات سے نمٹنے کے سلسلہ میں تلنگانہ کے چانکیا کے نام سے مشہور ہیں، انہوں نے این آر سی اور متنازعہ شہریت قانون کی مخالفت میں کچھ اس قدر پیش قدمی کی کہ وہاں موجود تمام مذہبی اور سیاسی قائدین ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چیف منسٹر سے ملاقات سے قبل مختلف قائدین دوٹوک انداز میں بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن چیف منسٹر نے پرتکلف ظہرانہ پر ضیافت کے بعد قائدین اور مذہبی شخصیتوں کو لاجواب کردیا۔ دوپہر دیڑھ بجے ملاقات شروع ہوئی جو تقریباً ساڑھے چار بجے تک چلی۔ اس دوران وفد میں شامل قائدین سے زیادہ چیف منسٹر نے این آر سی اور شہریت قانون کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ تاہم فوری طور پر تلنگانہ میں این آر سی پر عمل آوری نہ کرنے اور این پی آر پر روک لگانے کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔ چیف منسٹر کو مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کی جانب سے این پی آر اور این آر سی پر عمل آوری نہ کرنے سے متعلق اعلانات سے واقف کرایا گیا لیکن انہوں نے اسے طویل لڑائی قراردیتے ہوئے چالاکی کے ساتھ خود کو بچالیا۔ انہوں نے علماء و مشائخین اور سیاسی قائدین کو بھروسہ دلایا کہ اس مسئلہ پر کانگریس، کمیونسٹ اور دیگر ہم خیال علاقائی جماعتوں کے چیف منسٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے قومی سطح پر مہم شروع کریں گے۔ انہوں نے 30 جنوری کو یوم شہیداں کے موقع پر پریڈ گرائونڈ میں جلسہ عام کی تجویز پیش کی۔ بعض قائدین نے جب پریڈ گرائونڈ کے بجائے فتح میدان کی تجویز پیش رکھی تو کے سی آر نے کہا کہ عوام کی شرکت کے بارے میں فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ ’’میرے 100 ارکان اسمبلی ہیں وہ عوام کو جمع کرلیں گے۔‘‘ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے مسلم رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ مخالف این آر سی تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دیئے جانے سے بچائیں، کیونکہ بعض عناصر اس تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف جاری احتجاجی جلسوں میں ٹی آر ایس وزراء اور قائدین شریک ہوں گے۔ جمعہ 27 ڈسمبر کو نظام آباد کے جلسہ میں ریاستی وزراء محمود علی اور پرشانت ریڈی کو شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے ملاقات کے دوران پرشانت ریڈی کو فون کیا اور جلسہ عام کو کامیاب بنانے کی ہدایت دی۔