حیدرآباد۔ کانگریس ترنگا پرچم کی تیاری کے سو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ پنگل وینکیا نے پرچم کا ڈیزائن تیار کرکے یکم اپریل 1921 کو وجئے واڑہ میں منعقدہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیشن میںمہاتما گاندھی کو یہ پرچم پیش کیا تھا۔ درحقیقت اس پرچم کے سرخ اور سبز دو ہی رنگ تھے جو ملک کے دو بڑے مذاہب ہندو اور مسلمانوں کی نمائندگی تھی۔ گاندھی جی کے ہندو ۔ مسلم اتحاد کے نظریہ کے پیش نظر یہ پرچم تیار کیاگیا جبکہ کانگریس کی جانب سے خلافت تحریک کی تائید بھی کی گئی۔ گاندھی جی نے اس موقع پر پنگل وینکیا سے کہا کہ وہ پرچم میں سفید رنگ کا بھی اضافہ کرے تاکہ دیگر تمام مذاہب کی نمائندگی ہوسکے۔ اس طرح ہندوستان کے ہمہ مذہبی، ہمہ لسانی، مختلف نسلوں اور تہذیبوں کا ملک ہونے کی حیثیت سے شناخت ہوسکے۔ گاندھی جی نے چکرا کو بھی خود مکتفی ہونے کی علامت کے طور پر شامل کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ اس طرح یہ پرچم سرخ، سفید اور سبز رنگ پر مشتمل ہوا۔ پنگل وینکیا نے اس ترنگا کو کانگریس پرچم کے طور پرتیار کیا ہے۔ 10 سال بعد 1931 میں سرخ کو زعفرانی رنگ سے تبدیل کردیا گیا۔ 1931 میں قومی پرچم کی موجودہ شکل اختیار کی گئی جو زعفران، سفید اور سبز کے علاوہ درمیان میں گاندھی جی کا چکرا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 1931 میں قرارداد منظور کرتے ہوئے ترنگا کو کانگریس کے پرچم کے طور پر اختیار کیا۔ یہ بات واضح کی گئی کہ اس کے رنگ مذہبی یا طبقہ کی نمائندگی نہیں ہے۔ یہ وضاحت کی گئی کہ زعفران قربانی کی علامت ہے جبکہ سفید امن کی علامت اور سبز ترقی اور خوشحالی کی نمائندگی کرتا ہے۔دستوری اسمبلی میں 22 جولائی 1847 کو کانگریس کے ترنگا کو قومی پرچم کے طور پر اختیار کیا جس میں معمولی ترمیم کی گئی جہاں چکرا کی جگہ اشوکا دھرما چکرا کو ترنگا کے درمیان میں رکھا گیا۔